سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(273) ماہ صفر کے آخری بدھ کی نماز؟

  • 8242
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-15
  • مشاہدات : 918

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ہمارے ملک میں بعض علماء کہتے ہیں کہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو ایک نماز پڑھی جاتی ہے جو ضحی کے وقت چار رکعت ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں سورۂ  فاتحہ ، سورہ کوثر ، سترہ (۱۷) بار، سورۂ  اخلاص پچاس (۵۰) بار اور معوذتین ایک ایک بار پڑھتے ہیں ۔ سلام پھیر کرتین سو ساٹھ دفعہ یہ آیت پڑھتے ہیں:

﴿وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾

پھر جوہرۃ الکمال تین بار پڑھ کر آخر میں ایک دفعہ کہتے ہیں :

((سُبْحَانَ رَبَّکَ رَبَّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُاللّٰہِ رَبْ الْعَالَمِینَ))

اور فقیروں کو کچھ روٹی بھی خیرات کے طور پر دیتے ہیں۔ اس عمل کی خاصیت یہ ہے کہ  صفر کے آخری بدھ کو جو مصیبتں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں ان سے حفاظت ہوتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال صفر کے آخری بدھ کو تین لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور یہ سال کا سب سخت دن ہوتا ہے ۔لیکن جو شخص اس دن مذکورہ بالاطریقے سے مذکورہ بالا نماز پڑھ لے وہ ان تمام بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جوکوئی اس طرح یہ نماز ادا نہ کر سکے۔مثلا بچے وغیرہ تو اسے یہ سورتیں اور آیات لکھ کر گھول کر پلادی جائیں۔۔ کیا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیان کی گئی نماز کی کوئی دلیل قرآن مجید میں ملتی ہے نہ حدیث شریف میں۔ اس کا ثبوت صحابہ تابعین میں سے کسی سے ملتا ہے اور نہ بعد کے کسی نیک بزرگ سے ، لہٰذا یہ غلط کام اور بدعت ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسْ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَرَدٌّ))

’’ جس نے کوئی ایسا عمل کی اجو ہمارے دین کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کی اجو (دراصل) دین میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

جس نے یہ نماز اور اس کی فرضی فضائل کی نسبت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یا کسی صحابی کی طرف کی اس نے بہت بڑا جھوٹ بولا ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کذابوں کی وہ سزا ملے گی جس کا وہ مستحق ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحبِهِ وَسَلَّمَ

 اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 310

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ