سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(401) بدعت آمیز عمل ناقابل قبول ہوتا ہے

  • 8221
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-14
  • مشاہدات : 386

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیَسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ))
’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیاجو ہمارے حکم کے مطابق نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘
کیا بدعتی کا وہی عمل غیر مقبول ہوتا ہے جو بدعت ہے یا (اس کی وجہ سے ) اس کے تمام اعمال غیر مقبول ہوجاتے ہیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیَسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ))

’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیاجو ہمارے حکم کے مطابق نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

کیا بدعتی کا وہی عمل غیر مقبول ہوتا ہے جو بدعت ہے یا (اس کی وجہ سے ) اس کے تمام اعمال غیر مقبول ہوجاتے ہیں ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

بدعتیں کئی طرح کی ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں ، کچھ وہ ہیں جن کا تعلق عباد کے طریق ادائیگی سے ہے، یادین میں کسی غیر مقبول ہوجاتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰـہُ ہَبَآئً مَّنْثُورًا}

’’ہم ان علموں کی طرف آئیں گے جو انہوں نے کئے اور انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔ ‘‘ (الفرقان: ۲۴/۲۳)

اگر بدعت کا تعلق عبادت کی کیفیت سے ہو مثلا اجتمادی طورپر ذکر ، تکبیرات اور تلبیہ ادا کرنا ، یا بدعت اس قسم کی ہو کہ دین میں ایک نیا کام شروع کردیاجائے جو شریعت میں موجود نہیں مثلا میلا منانا، تویہ عمل مردود اور ناقابل قبول ہوگا۔

کیونکہ صحیحین میں بنیﷺ کا یہ فرمان مروی ہے:

((مَنْ أَ حھدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنھہُ فَہُوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے اس دین میں ایسا نیا کام نکالا جو اس میں اس نہیں ہے توبہ مردود ہے۔ ‘‘

وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 290

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ