سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(241) عقیدئہ تناسخ۔ قرآن کی روشنی میں

  • 8212
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-14
  • مشاہدات : 1206

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ہمارے فلسفہ کے استاد نے کہا ہے کہ روح ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس روح کو عذاب ہو یا اس کا محاسبہ ہو رہا ہو، وہ منتقل ہوجائے یہ تو دوسرے انسان کا محاسبہ ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے استاد کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ روح ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اس مسئلہ میں یہ آیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَة اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ﴾ (الاعراف۷؍۱۷۲)

’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خو د ان پر گواہ بنایا (اور ان سے فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا ’’کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں (ہم نے یہ اس لئے تمہیں بنادیا ہے) مبادا تم قیامت کے دن کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔‘‘

اس آیت کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’مؤطا‘‘ میں روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا:

﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَة اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ﴾ (الاعراف۷؍۱۷۲)

حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں نے کسی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ سوال کرتے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(أِنَّ اللّٰہَ تَعَالَی خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہُ بِیَمِیْنِہِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّتَہ،فَقَالَ خَلَقْتُ ھَؤُلاَئِ لِلْجَنَّة وَبِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّة یَعْمَلُوْنَ‘ ثُمَّ مَسَحَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّتَہُ‘فَقَالَ خَلَقْتُ ھَؤُلاَئِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلَ أَھْلَ النَّارِ یَعْمَلُوْنَ)

’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت پر اپنا دایا ہاتھ پھیرا اور اس سے آپ علیہ السلام کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: ’’میں نے یہ لوگ جنت کے لئے پیدا کئے ہیں، یہ جنتیوں والے عمل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے آپ علیہ السلام کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: ’’میں نے یہ لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں اور یہ جہنمیوں والے عمل کریں گے۔‘‘ [1]

ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس مفہوم کی دیگر احادیث بہت سی سندوں س عمر بن خطاب‘ عبداللہ بن مسعود‘ علی بن ابی طالب‘ ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم اجمعین) سے ثابت ہیں اور اس پر اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے۔ علمائے اہل سنت کہتے ہیں کہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں روح کی منتقلی کا مذہب ’’تناسخ‘‘ کا عقیدہ رکھنے والے کا قول ہے اور وہ کافر ترین لوگ ہیں اور ان کا یہ قول انتہائی باطل ہے۔


[1]  مسند احمد تحقیق احمدشاکر حدیث نمبر:۳۱۱۔ مؤطا امام مالک حدیث نمبر: ۸۹۸۔ سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۴۷۰۳۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۵۰۷۱۔مستدرک حاکم ج:۱،ص:۲۷،ج:۲،ص:۳۲۴،۵۴۴۔’’الشریعة‘‘آجری حدیث نمبر:۱۷۱۔ الرواعلی الجمیة تصنیف ابن مندہ حدیث نمبر:۲۸۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 276

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ