سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(218) رافضی فرقہ اسلام کے خلاف ہے

  • 8193
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-13
  • مشاہدات : 565

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ہم لوگ شمالی سرحد پر عراق کے علاقے کے قریب رہتے ہیں۔ یہاں جعفری مذہب کے کچھ افراد ہیں، ہم میں سے بعض ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں اور بعض کھالیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لئے گوشت کھانا جائز ہے؟ واضح رہے کہ یہ لوگ مصیبت اور راحت میں حضرت علی‘ حضرت حسن‘ حضرت حسین رضی اللہ عنہم اور دیگر بزرگوں کو پکارتے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب صورت حال یہ ہو جو سائل نے ذکر کی ہے وہاں پر موجود جعفری لوگ جناب علی‘ حسن‘ حسین رضی اللہ عنہم اور دیگر بزرگوں کو پکارتے ہیں تو وہ مشرک اور مرتد ہیں، (اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے)‘ ان کا ذبح ہوا جانور کھانا حلال نہیں، کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے، اگرچہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام ہی لیا ہو۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن بازفتویٰ (۳۰۰۸)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 238

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ