سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(335) ذکر ا لٰہی کے لئے کسی پیر کی اجازت کی ضرورت نہیں

  • 8155
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-13
  • مشاہدات : 597

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض صوفی کہتے ہیں کہ جب کوئی پیر اپنے مرید کو مثلاً یہ کہہ کر ذکر کی اجازت دیتا ہے کہ میں تجھے ایک سو چالیس بار لا الہ لا اللہ کہنے کی اجازت دیتا ہوں ‘ پھر وہ اس اجازت کا سلسلہ نبیﷺ تک‘ پھر جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے یا غلط؟ کیا یہ اجازت جناب رسول اللہﷺ سے ثابت ہے یا یہ بھی ایک بدعت ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض صوفی کہتے ہیں کہ جب کوئی پیر اپنے مرید کو مثلاً یہ کہہ کر ذکر کی اجازت دیتا ہے کہ میں تجھے ایک سو چالیس بار لا الہ لا اللہ کہنے کی اجازت دیتا ہوں ‘ پھر وہ اس اجازت کا سلسلہ نبیﷺ تک‘ پھر جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے یا غلط؟ کیا یہ اجازت جناب رسول اللہﷺ سے ثابت ہے یا یہ بھی ایک بدعت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کیلئے بندے کو کسی پیر یا شیخ کی اجازت کی ضرورت نہیں بلکہ ہر شحص تلاوت قرآن مجید‘ تسبیح وتمحید‘ تکبیرو تہلیل اور رسول اللہﷺ کے بیان کئے ہوئے دوسرے اذکار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کرسکتاہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اور رسول اللہﷺ نے اس کی ترغیب دلا ئی ہے۔ اس کے بعد کسی کی اجازت کے کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ اگر کوئی صوفی شیخ یا اس کا کوئی مرید یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر نام کا ایک خادم ہوتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شرعی طریقے سے یاد کرنا بھی اس وقت تک منع ہے جب تک پیر اپنے مرید کو اجازت نہ دے تو اس نے دین میں ایک نئی بات ایجادکر لی ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولا ہے‘ کیونکہ اس طرح کی کسی بات کی دلیل قرآن وحدیث سے نہیں ملتی۔ اس لئے بعض صوفیوں کے ا س طرح کے خیالات بدعت میں شامل ہیں اور جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:

(مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھَذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ)

’’جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں شامل نہیں ہے تو وہ رد کی جائے گی۔ ‘‘

واللہ المستعان۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 189

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ