سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(153) حدیث بداأ الاسلام غریباً کی تشریح

  • 8129
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-12
  • مشاہدات : 1815

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گزارش ہے کہ ہمیں اس حدیث کا مطلب سمجھا دیں:

(بَدَأَالأِسْلاَمُ غَرِیْباً وَسَیَعُودُ غَرِیباً کَمَا بَدَأً)

’’اسلام شروع ہوا تو اجنبی تھا اور وہ دوبارہ اسی طرح اجنبی ہوجائے گا جس طرح شروع ہوا۔‘‘

کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ مبارک میں اسے شان‘ غلبہ اور اقتدار حاصل تھا، دوبارہ حاصل ہوجائے گا، یا کوئی اور مطلب ہے؟ اس حدیث کو بھی پیش نظر رکھیں:

(خَیْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَھُمْ )

’’بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ان سے ملتے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں‘‘

اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، وہ سب سے افضل ہے اور بعد میں کبھی کوئی ایسا زمانہ نہیں آسکتا جو اس قدر خیروبرکت کاحامل ہو اور پہلی حدیث میں ’’جس طرح شروع ہوا‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آخری زمانہ میں اسی طرح ہوگا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں تھا اور مسلمانوں میں باہمی محبت اور اتفاق کادور دورہ ہوگا۔ جب کہ آج کل ہم مسلمانو ں کی یہ حالت دیکھ رہے ہیں کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں اور افتراق وانتشار کا شکار ہیں۔ حکمران اہل دین پر سختی کرتے ہیں، معاشرہ ان کامذاق اڑاتا ہے اور ان سے برسر پیکار ہیں جو مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں، لباس کے ایسے فیشن رائج کر رہے ہیں جن کو اختیار کرکے عورتیں عریانی اختیار کررہی ہیں۔ براہ کرم شافی جواب سے نوازیں، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام شروع میں ایک اجنبی کی حیثیت رکھتا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی تو اس کو کوئی شخص قبول کرتا تھا، اس وقت یہ اجنبی تھا، کیونکہ اس کے کے ماننے والے اجنبی بن کے رہ گئے تھے۔ ان کی تعداد بھی کم تھی اور قوت بھی‘ جب کہ ان مخالفین تعداد میں زیادہ،قوت میں برتر اور مسلمانوں پرمسلط تھے، حتیٰ کہ بعض حضژات نے اپنے دین کے فتنوں سے بچانے اور خود ظلم واستبداد اور تکلیف وتشدد سے بچنے کیلئے حبشہ کی طرف ہجرت کر لی۔ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بہت تکلیفیں برداشت کیں اور آخر کار اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرماگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس امید پر وطن چھوڑا تھا کہ اللہ تعالیٰ دعوت کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تائید کرنے والے اور اسلام کی نصرت کے لئے، آپ کا ساتھ دینے والے افراد مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمنا پوری کی‘ آپ کی مدد فرمائی اور آپ کے لشکر کو قوت بخشی‘ اس طرح اسلام کی سلطنت قائم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کی بات پست اور اپنے دین کی بت بلند فرمادی اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، حکمت والا ہے اور غلبہ وعزت وشوکت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے رسول اور مومن ہی اس کے مستحق ہیں۔ یہ معاملہ ایک عرصہ تک اسی انداز میں قائم رہا حتیٰ کہ مسلمانوں میں اختلاف اور ضعف پیدا ہونے لگا، ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام دوبارہ اجنبی بن کر رہ گیا جس طرح شروع میں اجنبی تھا۔ لیکن اس دفعہ اس کی وجہ ان کی تعداد کی کمی نہیں تھی۔ تعداد کے لحاظ سے وہ بہت زیادہ تھے لیکن اس کی وجہ یہ بنی کہ وہ اپنے دین پر مظبوطی سے قائم نہ رہے، اپنے رب کی کتاب سے ان کا تعلق کمزور ہوگیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوۂ  حسنہ پر عمل پیرا نہ رہے۔ الّا ماشاء اللہ۔ وہ اپنی اپنی ذات کی طرف متوجہ ہوگئے اور ان کا مطمح نظر صرف دنیا بن گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی سابقہ امتو ں کی طرح دنیا پرستی کی دوڑ میں مشغول ہوگئے، ظاہری دولت اور مناصو کی وجہ سے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے۔ چنانچہ اسلام کے دشمنوں کو دخل اندازی کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کیا اور انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ انہیں ذلیل کیا اور ہر طرح کی اذیتیں دیں۔ یہ اسلام کی وہ اجنبیت ہے جو دوبارہ پیش آگئی ہے جس طرح ابتدائی دور میں تھی۔

بعض علماء کی رائے ہے جن میں شیخ محمد رشید رضا بھی شامل ہیں کہ اس حدیث میں اسلام کی دوسری اجنبیت کے بعد پر اسلام کی فتوحات کی بشارت موجود ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ تشبیہ ہے کہ ’’وہ اجنبی ہوجائے گا جس طرح ابتداء میں تھا۔‘‘ یعنی جس طرح پہلی غربت (اجنبیت) کے بعد مسلمانوں کو عزت اور اسلام کو وسعت حاصل ہوئی تھی‘ دوسری غربت کے بعد بھی اسی طرح مسلمانوں کو عزت اور اسلام کو وسعت حاصل ہوگی۔

مزید وضاحت کے لئے امام شاطبی کی کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں انہوں نے اس حدیث کی جو تشریح فرمائی ہے وہ ملاحظہ فرمائیے اور اس کے ساتھ محمد رشید رضا نے اس کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ بھی دیکھئے، تو دوسری رائے خوب واضح ہو کر سامنے آجائے گی اور وہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس وقف کی تائید ان صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں آخری زمانے میں حضرت مہدی کے ظہور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے، اسلام کے (پوری دنیا میں) پھیل جانے اور مسلمانوں کی قوت وشوکت نیز کفر اور کافروں کے مغلوب ہوجانے کا بیان ہے۔[1]

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ

 اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز


[1]      زیر بحث حدیث کو امام احمد نے مسند میں (۱؍۳۹۸)، امام مسلم نے صحیح میں (حدیث نمبر: ۱۴۵) ابن ماجہ نے سنن میں (حدیث نمبر: ۳۹۸۸) اور امام دارمی نے سنن میں حدیث نمبر: ۲۷۵۸) روایت کیا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 165

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ