سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(304) ’’سلفیت سے کیا مراد ہے؟

  • 8124
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-12
  • مشاہدات : 894

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

سلفیت ’’سلف‘‘ کی طرف نسبت ہے۔ سلف سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم او رپہلی تین صدیوں کے علمائے کرام رضی الله عنہم  ہیں۔ جن کے متعلق رسول اللہﷺ نے بہتری کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

(خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَھُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَھُمْ ثُمَّ یَجِیئُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَھَادَة أَحَدَھِمْ یَمِینَہُ وَیَمِینَہُ شَھَادَتَہُ)

’’سب لوگوں سے بہترین میرے ہم عصر ہیں ‘ پھر وہ ان سے ملیں گے‘ پھر وہ ان سے ملیں گے۔ پھر ایسے لوگ آجائیں گے جن کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔ ‘‘1

اس حدیث کو امام احمد نے اپنی ’’مسند‘‘ میں اور امام بخاری اور امام مسلم نے ’’صحیحین‘‘ میں روایت کیا ہے۔ 2

سلفی‘ سلف کی طرف نسبت ہے اور سلف کا معنی بیان ہوچکاہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو سلف کے طریقے پر چلتے ہوئے قرآن وسنت کی پیروی کرتے ہیں ‘ ان کی طرف دعوت دیتے اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ ’’اہل سنت والجماعت‘‘ ہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۴۲۵۰)

-------------------------------------

1یعنی سچی جھوٹی گواہی دینے میں اور قسمیں کھانے میں بے باک ہوں گے۔

2مسند احمد ۴,۴۲۶‘ ۴۷۹۔ صحیح بخاری حدیث نمبر: ۲۶۵۱‘ ۳۶۵۰‘ ۶۴۲۸‘ ۶۶۹۵‘ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۲۵۳۵

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 161

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ