سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(291) شریعت اور طریقت میں فرق

  • 8111
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-12
  • مشاہدات : 1330

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شریعت اور طریقت میں کیا فرق ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شریعت اور طریقت میں کیا فرق ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں کے ذریعے نازل کی اور جسے رسولوں کو دے کر مبعوث فرمایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے ہوئے اس کا قرب حاصل کرنے کیلئے اس (شریعت) پر عمل کریں جس طرح انہیں اللہ کے رسولﷺحکم دیں۔ اور طریقت وہی معتبر ہے جو اس کے مطابق ہو‘ یعنی اس طریقے کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء جناب محمدﷺپر ناز ل کیا ہے اور اس کے متعلق یہ فرمایا ہے:

{وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہ}

’’اور یہ میرا راستہ ہے سیدھا‘ تو اس کی پیروری کرو اور دوسری راہوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی۔ ‘‘

اور جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا:

(سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَة کُلُّھَا فِیی النَّارِ أِلاَّ وَاحِدَة۔ قِیلَ: مَنْ ھِییَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَنْ کَانَ عَلَی مِثْلِ مَا أَنَا عَلَیہِ وَأَصْحَابِیی)

’’میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘ وہ سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوئے ایک کے۔ عرض کی گئی ’’یا رسول اللہ وہ کون سا ہے؟‘‘ آپﷺنے فرمایا: ’’جو لوگ اس چیز پر قائم ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ ‘‘1

اس لئے طریقت‘ شریعت ہی میں شامل ہے۔ اس کے خلاف جو بھی طریقے ہیں جیسے صوفیانہ طریقے‘ تیجانیہ‘ تقشبندیہ‘ قادریہ وغیرہ۔ یہ سب بعد میں بننے والے طریقے ہیں ‘ ان کو صحیح تسلیم کرنا یا ان پر عمل کرنا جائز نہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۸۳۰)

---------------------------------------------

1 جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۶۴۳۔ طبرانی صغیر نمبر ۷۲۴ عقیلی: الصنعفاء ۲,۲۶۲

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 146

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ