سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(240) کون سے گناہ سے کفر لازم آتا ہے؟

  • 8060
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-11
  • مشاہدات : 1193

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے اس کے بارے میں دین اسلام کا کیا فیصلہ ہے؟ مصر میں ایک جماعت پیدا ہوئی ہے جو شرک باللہ کے علاوہ بھی کسی گناہ کے ارتکاب کرنے پر مسلمان کو کافر قرار دے دیتی ہے۔ تو کیا‘ اللہ کی نافرمانی کے اعمال کا صدور اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ایک انسان کو کافر بنادیتا ہے حالانکہ وہ الا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کبیرہ گناہ اپنی شناخت اور شدت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں سے کچھ تو شرک ہیں ‘ کچھ نہیں۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ وہ شرک کے سواکسی گناہ کے مرتکب کو کافر نہیں کہتے۔ مثلاً قتل‘ شراب‘ زنا‘ چوری‘ یتیم کا مال کھانا‘ پاک دامن خواتین کو بدکاری کی تہمت لگانا‘ سود کھانا اور دوسرے کبیرہ گناہ۔ لیکن مسلمان حاکم کا فرض ہے کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں پر اسلامی شریعت کے مطابق حد یا تعزیر نافذ کرے اور مجرم کا فرض ہے کہ وہ توبہ واستغفار کرے۔ لیکن ایسے کبیرہ گناہ (جن کا تعلق عقیدہ سے ہے) جیسے اللہ کے سوا کیس سے فریاد کرنا‘ مثلاً مصیبت سے نجات کیلئے فوت شدہ بزرگوں کو پکارنا اور ان کے لئے نذر ماننا اور ان کے لئے جانور قربان کرنا‘ اس قسم کے کبیرہ گناہ کفر اکبر ہیں۔ جو شخص کوئی ایسا کام کرے اسے صحیح مسئلہ بتانا چاہئے اوردلائل سے خوب واضح کرنا چاہے۔ اس وضاحت اور تبلیغ کے بعد اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہوگی۔ ورنہ مسلمان حکمران اسے مرتد قرار دے کر سزائے موت دے گا۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۷۲۳۳)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 95

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ