سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(211) اسلامی تشخص کسی حال میں مجروح نہ ہونے دیں

  • 8031
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-11
  • مشاہدات : 535

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

متحرم شیخ صاحب! میری بعض مسلمان بھائیوں سے بحث ہوگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’گھانا‘‘ میں بعض مسلمان یہودونصاریٰ کی چھٹیوں کے مطابق چھٹیاں کرتے ہیں اور اسلامی چھٹیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ جب یہودیوں یا عیسائیوں کی عید کا دن ہوتا ہے تو اس دن مسلمانوں کے مدرسہ میں چھٹی کردیتے ہیں اور جب مسلمانوں کی عید آتی ہے تو اسلامی مدرسہ میں چھٹی نہیں کرتے‘ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم یہودونصاریٰـ کی چھٹیوں کی پیروی نہ کریں گے تو وہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ محترم شیخ صاحب! آپ ہمیں یہ سمجھائیں کہ ان کا یہ کام دین اسلام میں صحیح ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)      سنت یہی ہے کہ دین اسلام کے شعائر کو ظاہر کیا جائے اور انہیں فوقیت دی جائے۔ ان کا اظہار نہ کرنارسول اکرم ﷺ کے طریقہ کے خلاف ہے۔ صحیح حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

(عَلَیْکُم بِسُنَّتِیْ وَسُنَّة الْخُلَفَائِ الرَّشِدیْنَ الْمَھْدِیِّینَ تَمَسَّکُو بِھَا وَعَضُّوا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِدِ)

’’میری سنت کو لاز پکڑ لو او رہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کرو‘ اسے مضبوطی سے داڑھوں سے پکڑ کے رکھو‘‘

(۲)      مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ کفار کی عیدوں میں شریک ہوں اور اس موقعہ پر خوشی کا اظہار کریں یا کسی دینی یا دنیوی کام کو معطل کرکے چھٹی کریں ‘ کیونکہ اس طرح اللہ کے دشمنوں سے مشابہت لازم آتی ہے جو حرام ہے اور ان کے غلط کام میں تعاون ہوتا ہے‘ جو جائز نہیں ہے۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمِ فَھُوَ مِنْھُمْ)

’’جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے‘‘1

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ} (المائدة ۵/۲)

’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو‘ گناہ اور زیادتی میں تعاونہ نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ ‘‘

ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ الله علیہ کی کتاب (اقْتِضَائُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ) اس موـضوع پر یہ کتاب بہت مفیدہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۵۱۲۴)

--------------------------------------------------

1 مسند احمد ۲/۵۰‘ سنن ابی داؤد حدیث نمبر۴۰۳۱۔ مصنف ابن ابی شبیہ ۵/۳۱۳۔ عبدبن حمید (منتخب) نیز دیکھئے شیخ الاسلام امام بن تیمیہ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم ۱/۲۳۶

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 54

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ