سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(205) علم ہو جانے کے بعد حرام کے پیسے لینا

  • 8025
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-11
  • مشاہدات : 754

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں انکم ٹیکس میں جاب کرتا تھا، پھر میں نے جاب چھوڑ دی، مجھے پتہ چلا کہ یہ ناجائز ہے اور اسلام سے متصادم محکمہ ہے اور اس کی روزی حلال نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری تنخواہ میں سے کچھ رقم اس آفس میں کام کرنے والوں کے پاس رہ گئی ہے،جو انہوں نے مجھے ابھی تک ادا نہیں کی۔ کیا وہ میرے لیے لینا جائز ہے؟ اگرچہ وہ میرا حق ہے لیکن چونکہ مجھے اب مسئلے کا علم ہو گیا ہے کہ وہ درست نہیں تو کیا میں پھر بھی لے لوں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسئلے کا علم ہو جانے کے بعد اب آپ کے لئے وہ رقم لینا درست نہیں ہے ۔احتیاط اسی میں ہے کہ آپ وہ رقم نہ لیں ،اور اللہ تعالی سے رزق حلال کے حصول کی دعا کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ