السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ تعالیٰ فرماتے ہی:
﴿وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَرَسُوْلًا﴾ (الإسراء ۱۷/ ۱۵)
’’ہم عذاب نہیں دیتے حتیٰ کہ رسول بھیجیں۔‘‘
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس زمانے میں جس شخص کو اسلام کا پیغام پہنچ گیا اس پر حجت قائم ہوگی اور جسے ا سلام کا پیغام نہیں پہنچا ا س پر حجت قائم نہیں ہوئی۔ جو حکم دوسرے زمانو ں میں تھا، وہی حکم اب بھی ہے اور علماء کا فرض ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق تبلیغ کریں اور حقیقت واضح کریں۔
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ
اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز فتویٰ (۷۷۱۲)
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب