سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(13) جولو گ دین اسلام کو برا بھلا کہیں

  • 7990
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-10
  • مشاہدات : 832

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(۱) جولو گ دین اسلام کو برا بھلا کہیں ، اسلام میں ان کا کیا حکم ہے، اگرچہ وہ انتہائی قریبی رشتہ دار ہوں مثلاً باپ یا بھائی؟

(۲)      مزاروں کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟ مثلاً ابراہیم دسوقی، السید بدوی اور حضرت حسین رضی الله عنہما  کے مزار۔ ان قبروں پر جو مسجدیں بنی ہوئی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ مسجدیں اس حدیث کے تحت آتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

(لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ)

’’یہودونصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔ ‘‘

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین اسلام کو گالی دینا بہت بڑا ارتداد ہے اگرچہ مذکورہ شخص مسلمان ہونے کادعوی رکھتا ہو اور جسے اس کی اس حرکت کا علم ہو اسے چاہئے کہ اسے اس برائی سے منع کرے اور نصیحت کرے شاید وہ نصیحت قبول کرکے اس گناہ سے باز آجائے اور توبہ کرلے۔ خصوصاً جب اس قسم کی حرکت کا ارتکاب کرنے والا رشتہ دار بھی ہو تو اسے نصیحت کرنا اور بھی ضروری ہوتا ہے، ارشاد نبوی ہے۔

(مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُّنْکِرًا فَلْیُغَّیرْہُ بِیَدِہِ، فَأِنْ لَّمْ یَسْتَطِعج فَبِلِسَانِہِ، فَأِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ، وَذٰالِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ) (صحیح مسلم)

’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی کو دیکھے، اسے ہاتھ سے مٹادے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے)، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت کرے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ ‘‘

(2)      قبروں پر مسجدتعمیرکرنا جائز نہیں ہے، نہ مسجد میں میت دفن کرنا اس قسم کی مسجد میں نماز پڑھنا بھی درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(أَلَا وَأِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلِکْمْ کَانُو یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ وَصَالِحَیھِمْ مَسَاجِدَ أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ أَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰالِکَ) (صحیح مسلم)

’’سنو! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء ووالیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیاکرتے تھے، سنو! تم لوگ قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس حرکت سے منع کر رہا ہوں۔ ‘‘ (صحیح مسلم)

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۴۴۴۰)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 22

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ