سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(605) سگریٹ پینے، اس کی بیع اور اس کی تجارت کا کیا حکم ہے؟

  • 7970
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-09
  • مشاہدات : 676

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سگریٹ پینے کا کیا حکم ہے اور آیا وہ حرام ہے یا مکروہ، نیز اس کی بیع اور اس کی تجارت کا کیا حکم ہے؟ (ع۔ح۔ع۔ح)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سگریٹ پینے کا کیا حکم ہے اور آیا وہ حرام ہے یا مکروہ، نیز اس کی بیع اور اس کی تجارت کا کیا حکم ہے؟ (ع۔ح۔ع۔ح)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سگریٹ نوشی حرام ہے۔ کیونکہ یہ گندی چیز ہے اور بہت سے نقصانات پر مشتمل ہے اور اللہ تعالیٰ نے تو اپنے بندوں کے لیے کھانے پینے کی چیزوں میں سے پاکیزہ چیزیں ہی ان پر مباح کی ہیں اور گندی چیزوں کو حرام کیا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :

{یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ} (المآئدۃ: ۴)

’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ ان کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں اپنے نبیﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

{یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ} (الاعراف: ۱۵۷)

’’وہ (پیغمبر) لوگوں کو بھلی باتوں کا حکم دیتا اور بری باتوں سے روکتا ہے۔ وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور گندی چیزیں حرام کرتا ہے۔‘‘

اور تمباکو نوشی اپنی تمام قسموں سمیت پاکیزہ چیزوں سے نہیں بلکہ گندی چیزوں سے ہے۔ اسی طرح تمام نشہ آور چیزیں بھی گندی چیزوں سے ہیں ۔ تمباکو نہ پینا جائز ہے نہ اس کی بیع جائز اور نہ ہی اس کی تجارت جائز ہے۔ جیسا کہ شراب کی صورت ہے۔ لہٰذا جو شخص سگریٹ پیتا ہے یا اس کی تجارت کرتا ہے اسے جلد ہی اللہ تعالیٰ کے حضور رجوع اور توبہ کرنا، گزشتہ فعل پر نادم ہونا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا چاہیے اور جو شخص سچے دل سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے:

{وَتُوْبُوْا اِِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo} (النور: ۳۱)

’’اور اے ایمان والو! سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

نیز فرمایا:

{وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰیo} (طٰہٰ:۸۲)

’’اور جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر سیدھی راہ چلے تو میں اسے بخشنے والا ہوں ۔‘‘

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 238

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC