سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(588) میں شوہر دیدہ عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں ...الخ

  • 7953
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-09
  • مشاہدات : 499

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں ثیب (شوہر دیدہ عورت) سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا والد، مذکورہ عورت اور اس کے گھر والے بھی، سب اس شادی کے موافق ہیں لیکن میری والدہ اس کے موافق نہیں اور نہ ہی اس بات پر راضی ہے… کیا میں والدہ کی رضا کی پرواہ کیے بغیر اس عورت سے شادی کرل وں یا نہ کروں ؟ اور اگر میں اس سے شادی کر لوں تو کیا میں اپنی والدہ کا نافرمان ہوں گا؟ مجھے مستفید فرمائیے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ (ابوبکر۔ م۔ سوڈانی حال مقیم ریاض)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ثیب (شوہر دیدہ عورت) سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا والد، مذکورہ عورت اور اس کے گھر والے بھی، سب اس شادی کے موافق ہیں لیکن میری والدہ اس کے موافق نہیں اور نہ ہی اس بات پر راضی ہے… کیا میں والدہ کی رضا کی پرواہ کیے بغیر اس عورت سے شادی کرل وں یا نہ کروں ؟ اور اگر میں اس سے شادی کر لوں تو کیا میں اپنی والدہ کا نافرمان ہوں گا؟ مجھے مستفید فرمائیے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ (ابوبکر۔ م۔ سوڈانی حال مقیم ریاض)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

والدہ ا حق بہت بڑا ہے اور اس سے نیک سلوک اہم واجبات سے ہے اور جس بات کی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ اس عورت سے شادی نہ کریں ۔ جس سے تمہاری ماں خوش نہیں … کیونکہ تمہارے لیے تمام لوگوں سے زیادہ خیر خواہ تمہاری والدہ ہے۔ شاید وہ اس عورت کے اخلاق سے کوئی ایس بات جانتی ہو جس سے آپ کو تکلیف پہنچے۔ عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :

{وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًاo وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} (الطلاق: ۲۔۳)

’’اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے راہ نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔‘‘

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ والدہ سے نیک سلوک تقویٰ کی بات ہے۔ الا یہ کہ تمہاری والدہ دیندار نہ ہو اور وہ عورت جس سے منگنی مطلوب ہے، دیندار اور متقی ہو اور اگر ایسی بات ہے جو ہم نے ذکر کی ہے تو پھر اس معاملہ میں تمہارے لیے اپنی والدہ کی اطاعت ضروری نہیں ۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:

((انَّمَا الطَّاعۃُ فی الْمعروفِ))

’’اطاعت صرف بھلے کاموں میں کرنا چاہیے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے جس میں اس کی رضا ہو اور آپ کے لیے ایسی بات آسان بنائے جس میں آپ کے دین اور دنیا کی صلاح وسلامتی ہو۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 218

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ