سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(560) کیا سفر میں ایک عورت کے لیے دوسری کو محرم سمجھا جائے؟

  • 7925
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-08
  • مشاہدات : 966

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا سفر میں یا حضر وغیرہ میں ایک عورت کو دوسری اجنبی عورت کے لیے محرم سمجھا جائے یا نہیں ؟ (علی۔ ع۔ ا۔القصیم)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا سفر میں یا حضر وغیرہ میں ایک عورت کو دوسری اجنبی عورت کے لیے محرم سمجھا جائے یا نہیں ؟ (علی۔ ع۔ ا۔القصیم)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کوئی عورت دوسری کے لیے محرم نہیں ۔ محرم تو صرف وہ شخص ہے جو عورت کے نسب کے لحاظ سے اس پر حرام ہو۔ جیسے اس کا باپ اور اس کا بھائی یا مباح کا سبب ہو۔ جیسے خاوند اور خاوند کا باپ اور خاوند کا بیٹا اور جیسے رضاعی باپ یا رضاعی بھائی اور دوسرے محرم رضاعی رشتے۔

کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اجنبی عورت سے خلوت کرے اور نہ ہی اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:

((لَا تُسَافِرُ الْمَرْاۃُ الَّا مَعْ ذِی مَحْرَمٍ))

’’کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

اس حدیث کی صحت پر شیخین کا اتفاق ہے۔

اور اس لیے بھی کہ نبیﷺ نے فرمایا:

((لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَاۃٍ، فاِنَّ الشَّیْطَانَ ثالِثُھُمَا))

’’جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ علیحدہ ہوتا ہے تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد وغیرہ نے عمر رضى الله عنه کی حدیث سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

 

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 190

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ