سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(168) بہبود فنڈ کے لیے مجھے امین بنایا گیا..الخ

  • 7890
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-08
  • مشاہدات : 451

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل خیر نے مجھ پر اعتماد کیا اور مدرسہ ثانویہ کی تعمیر کے لیے چندہ کے صندوق کے لیے مجھے امین بنایا۔ دریں اثنا مجھے اپنے ذاتی مکان کی تعمیر کے لیے رقم کی ضرورت پڑ گئی تو میں نے اس صندوق سے لے لی۔ پھر مدرسہ کی تعمیر کے اختتام سے پیشتر ہی میں نے وہ رقم جو میرے ذمہ تھی، مدرسہ کی خاص کمیٹی کے حوالہ کر دی اور یہ کہہ دی کہ رقم ایک محسنہ عورت نے دی ہے جو اپنا نام ظاہر کرنا پسند نہیں کرتی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم میرے ذمہ تھی لیکن میں شرم کے مارے حقیقت کا اظہار نہ کر سکا، کیا یہ رقم لینے میں مجھ پر کچھ گناہ ہے۔ یہ خیال رہے کہ میں وہ رقم بے باق کر چکا ہوں؟ اور اب توبہ کا کیا طریقہ ہے، مجھے مستفید فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔   (قاری)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص کسی بھی طرح کے مال یا کسی مشروع کا امین بنایا جائے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے اس مال میں تصرف کرے۔ اس پر اس مال کی اس وقت تک حفاظت واجب ہے جب تک کہ وہ اپنے مصرف میں صرف نہ ہو جائے۔ آپ نے جو یہ کام کیا، پھر امانت میں خیانت کی وجہ سے ان کے سامنے جھوٹ بولا، آپ پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ لازم ہے اور جو شخص سچی توبہ کرے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوحًا﴾

’’اے ایمان والو! اللہ کے آگے سچے دل سے توبہ کرو۔‘‘ (التحریم: ۸)

نیز فرمایا:

﴿وَتُوْبُوْا اِِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo

’’اور اے ایمان والو! سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘(النور: ۳۱)

اور سچی توبہ ان باتوں پر مشتمل ہے۔ وہ اپنے سابقہ گناہوں پر نادم ہو۔ اللہ سبحانہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی عظمت کی خاطر اسے یکسر چھوڑ دے اور آئندہ ایسا کام نہ کرنے کا پختہ عہد کرے اور اگر توبہ کرنے والے نے ان لوگوں سے نا انصافیاں کی ہیں تو ان کا مداوا کرے خواہ یہ نا انصافیاں خون میں ہوں یا مال میں یا عزت میں ہوں۔ یا لوگوں سے معاف کروائے اور اگر اس نے لوگوں پر غیبت کی قسم سے زیادتی کی ہو اور ڈرتا ہو کہ اور زیادہ نقصان ہوگا تو پھر انہیں نہ بتلائے اور ان کے لیے دعا واستغفار کرے اور غیبت کر کے لوگوں سے اس کی جو برائیاں بیان کر چکا، اس کے عوض اب لوگوں سے اس کی خوبیاں ظاہر کرے… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 154

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ