سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(489) کیا اپنی بجائے کسی قریبی کے لئے حج کی نیت کر سکتے ہیں؟

  • 7854
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-08
  • مشاہدات : 352

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کسی شخص نے اپنے لیے حج کی نیت کی اور وہ خود پہلے حج کر چکا تھا۔ جب وہ عرفہ میں تھا تو اسے خیال آیا کہ وہ اپنے کسی قریبی کے لیے حج کی نیت بدل لے۔ اس کا کیا حکم ہے اور کیا اسے یہ جائز ہے یا نہیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی شخص نے اپنے لیے حج کی نیت کی اور وہ خود پہلے حج کر چکا تھا۔ جب وہ عرفہ میں تھا تو اسے خیال آیا کہ وہ اپنے کسی قریبی کے لیے حج کی نیت بدل لے۔ اس کا کیا حکم ہے اور کیا اسے یہ جائز ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان جب اپنے لیے حج کا احرام باندھ لے تو پھر وہ نیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ نہ راستے میں ، نہ عرفات میں اور نہ کسی اور جگہ۔ بلکہ یہ حج اسی کے لیے لازم ہے۔ اس کے باپ یا ماں یا کسی دوسرے کے لیے بدل نہیں سکتا۔ اسی کے لیے متعین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :

{وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} (البقرۃ: ۱۹۶)

’’اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو۔‘‘

گویا جب اس نے اپنے لیے احرام باندھا تو اپنے لیے ہی اسے پورا کرنا واجب ہوگیا اور اگر وہ کسی دوسرے کے لیے احرام باندھتا تو اسے دوسرے کے لیے ہی پورا کرتا۔ لیکن احرام باندھنے کے بعد وہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا، اگرچہ وہ اپنی طرف سے حج پہلے کر چکا ہو۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 129

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ