سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(439) نماز میں منہ لپیٹنا یا دیوار سے ٹیک لگانا جائز ہے؟

  • 7804
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-08
  • مشاہدات : 382

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نماز میں منہ لپیٹنا یا دیوار یا ستون سے یا ایسی ہی کسی دوسری جگہ سے ٹیک لگانا جائز ہے؟ 

 

ابراہیم ۔ س۔ المنطقہ الجنوب

 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی سبب کے بغیر نماز میں منہ لپیٹنا مکروہ ہے، نہ ہی فرض نماز میں کسی دیوار یا ستون سے ٹیک لگانا جائز ہے۔ کیونکہ طاقت رکھنے والے نمازی پر بغیر ٹیک کے سیدھا کھڑا ہونا واجب ہے۔ 

البتہ نفلی نمازوں میں ٹیک لگا لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ انہیں بیٹھ کر بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور ٹیک لگاتے ہوئے بھی۔ البتہ کھڑے ہو کر نفل ادا کرنا بیٹھ کر ادا کرنے سے افضل ہے۔

 

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 90

محدث فتویٰ

کیا نماز میں منہ لپیٹنا یا دیوار یا ستون سے یا ایسی ہی کسی دوسری جگہ سے ٹیک لگانا جائز ہے؟  

ابراہیم ۔ س۔ المنطقہ الجنوب

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ