سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(409) کیا مسافر مقیم کی نماز میں امامت کراسکتا ہے؟

  • 7774
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-07
  • مشاہدات : 416

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر انسان سفر کرے اور یہ چاہتا ہوکہ ظہر کی نماز باجماعت ادا کرے۔ وہ ایک مقیم کو پاتا ہے جو ظہر کی نماز ادا کر چکا ہے ، تو کیا مقیم مسافر کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے؟ اور کیا وہ اس کے ساتھ نماز قصر ادا کرے یا پوری کرے؟
ع۔ن۔ح۔ شقراء

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر انسان سفر کرے اور یہ چاہتا ہوکہ ظہر کی نماز باجماعت ادا کرے۔ وہ ایک مقیم کو پاتا ہے جو ظہر کی نماز ادا کر چکا ہے ، تو کیا مقیم مسافر کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے؟ اور کیا وہ اس کے ساتھ نماز قصر ادا کرے یا پوری کرے؟

ع۔ن۔ح۔ شقراء

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر مقیم مسافر کے پیچھے طلب فضیلت کے لیے نماز پڑھے جبکہ وہ اپنا فریضہ ادا کرچکا ہے تو وہ مسافر کی طرح دو ہی رکعتیں ادا کرے گا۔، کیونکہ وہ اس کے لے نفل ہیں البتہ جب مقیم مسافر کے پیچھے اپنی فرض نماز جیسے ظہر ، عصر اور عشاء پڑھے تو وہ چار رکعت پڑھے گا اور دو رکعت کے بعد جب مسافر سلام پھیرے تواسے لازم ہے کہ اپنی نماز مکمل کرے۔

اورجب مقیم امام ہو اور مسافر اس کے پیچھے فرض نماز اداکررہا ہو تو مسافر بھی سب کے ساتھ پوری نماز ادا کرے گا۔ کیونکہ علماء کے دو اقوال میں سے صحیح ترقول کے مطابق اسے چار رکعت پوری کرنا چاہیں جیساکہ امام احمد اور امام مسلم رحمتہ الله  نے اپنی اپنی صحیح میں ابن عباس رضى الله عنه سے روایت کی ہے کہ ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امام کے پیچھے چار رکعت ادا کرے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دو رکعت ۔ پھر فرمایا: سنت یہی ہے۔

اور اس لیے بھی کہ نبیﷺ کے اس قوال میں عموم ہے:

((إنَّما جُعِلَ الإ مامُ لیُؤْتَمَّ بہ، فلاَ تخْتِلفُوا علیہ۔))

 امام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس اقتداء کی جائے لہٰذا ا س کے خلاف نہ کرو۔

اس کی صحت پر شیخین کا اتفاق ہے۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 71

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ