سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(92) کیا رفع الیدین ۔ آمین ۔ فاتحہ خلف الامام منسوخ ہوگئی تھی ؟

  • 774
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 989

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ آمین۔ رفع یدین پہلے ابتداء اسلام میں کی گئی تھیں ۔ آخر عمر میں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کی ۔ کیا اس کا یہ کہنا درست ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

 ابتداء اسلام سے کیا مراد ہے مکہ شریف میں ہجرت سے پہلے یا کچھ اور۔ اگر مکہ شریف میں ہجرت سے پہلے کا وقت مراد ہے تو مشکوۃ وغیرہ میں ہجرت کے بعد کی بہت سی احادیث موجود ہیں۔جن میں رفع یدین کا ذکر ہے۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس اخیر زمانے میں آئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا۔ ملاحظہ ہو۔ مشکوۃ باب صفة الصلوۃ بلکہ بیہقی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رفع یدین کرتے رہے یہاں تک کہ آپ وفات پاگئے۔ ملاحظہ ہو تلخیص الجیر۔ اس طرح آمین کے متعلق وائل بن حجر کی حدیث مشکوۃ باب القراۃ فی الصلوۃ  فصل 2 میں موجود ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب تک یہ ثبوت نہ دیا جائے کہ فلاں وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کرتے رہے یا آمین کہتے رہے اس کےبعد منسوخ ہوگئی۔ اس وقت تک یہ کہنا غلط ہے کہ رفع یدین ابتداء اسلام میں پہلے تھی ۔ یہی حال فاتحہ خلف الامام کا ہے۔ اس کے متعلق بھی ثبوت ہونا چاہیے کہ کس وقت تک پڑھتے رہے اور کب منسوخ ہوئی تاکہ اس کےبعد پڑھنے کا ثبوت ہم دے سکیں ۔ اور آیت کریمہ واذا قرئ القرآن سورہ اعراف کی ہے جو مکی ہے۔ چنانچہ عام طور پر قرآن مجید کے نسخوں میں اس سورہ کے شروع میں یہ لکھا ہے تو پھر اس آیت سے اخیر میں منسوخ ہونے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوتاہے کہ یہ مولوی کوئی جاہل بلکہ اجہل ہے جس نے کبھی قرآن مجید کھول کر نہیں دیکھا ۔ انا للہ

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نمازکی کیفیت کا بیان، ج2 ص123 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ