سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(374) {وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا } (مریم: ۷۱) میں ورود سے کیا مقصود ہے؟

  • 7739
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-07
  • مشاہدات : 451

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے سورہ مریم کی آیات نمبر ۷۱۔۷۲ پڑھیں جویوں ہیں ۔بسم اللہ الرحمن:
{وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاoثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}
’’ اور تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو جہنم پروار نہ ہو۔ یہ بات تمہارے پروردگار پر لازم اور طے شدہ ہے ۔ پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہو اچھوڑ دیں گے۔ (مریم: ۷۱۔۷۲)
میں چاہتا ہوں کہ اس آیت کریمہ اور بالخصوص ورود کے معنی سمجھوں ۔ میں نے ابن رجب حنبلی کی کتاب میں پڑھا وہ کہتا ہے کہ ائمہ نے وررد کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے۔ تو کیا ورود کا معنی دوزخ میں داخل ہونا ہے۔ یعنی مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوزخ سے نجات دے گا ۔ یا اس لفظ سے مقصود محض اس صراط (راستہ) (پل) پرچلنا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح ہوگا۔ پھر پہلا گروہ تو بجلی کی طرح (برق رفتاری سے ) اس پر سے گزر جائے گا دوسرا ہوا کی رفتار گھوڑے اور چوتھا تیز رفتار اونٹ اور جانوروں کی رفتار سے گزر رہے ہوں گے اور فرشتے کہہ رہے ہو گے ۔ اے پروردگار! انہیں سلامت رکھ، انہیں سلامت رکھ۔
حنان۔ا۔ المنطقہ۔ الوسطی

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے سورہ مریم کی آیات نمبر ۷۱۔۷۲ پڑھیں جویوں ہیں ۔بسم اللہ الرحمن:

{وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاoثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}

’’ اور تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو جہنم پروار نہ ہو۔ یہ بات تمہارے پروردگار پر لازم اور طے شدہ ہے ۔ پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہو اچھوڑ دیں گے۔ (مریم: ۷۱۔۷۲)

میں چاہتا ہوں کہ اس آیت کریمہ اور بالخصوص ورود کے معنی سمجھوں ۔ میں نے ابن رجب حنبلی کی کتاب میں پڑھا وہ کہتا ہے کہ ائمہ نے وررد کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے۔ تو کیا ورود کا معنی دوزخ میں داخل ہونا ہے۔ یعنی مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوزخ سے نجات دے گا ۔ یا اس لفظ سے مقصود محض اس صراط (راستہ) (پل) پرچلنا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح ہوگا۔ پھر پہلا گروہ تو بجلی کی طرح (برق رفتاری سے ) اس پر سے گزر جائے گا دوسرا ہوا کی رفتار گھوڑے اور چوتھا تیز رفتار اونٹ اور جانوروں کی رفتار سے گزر رہے ہوں گے اور فرشتے کہہ رہے ہو گے ۔ اے پروردگار! انہیں سلامت رکھ، انہیں سلامت رکھ۔

حنان۔ا۔ المنطقہ۔ الوسطی

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وردو سے مراد صراط (پل) کے ا وپر سے گزارتا ہے جو جہنم کی پشتپ پر رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سے پناہ میں رکھے۔ لوگ اس پر سے اپنے اعمال کی مناسبت سے گزریں گے جیساکہ ان احادیث میں مذکور ہے۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 43

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ