سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(91) کیا ترک رفع الیدین سے نماز میں نقص آتاہے

  • 773
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 847

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید اور بکر رکوع کے وقت رفع یدین کے بارہ میں جھگڑا کرتے ہیں ۔ زید کہتاہے کہ رفع یدین کےبغیر نماز ناقص اور نامکمل ہے اور حدیث میں صلوا کما رايتونی کے خلاف ہے۔

بکر کا خیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ رفع یدین کا استحباب ثابت ہے اور اس کا ترک بھی بڑے بڑے  صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔لہذا اگر رفع یدین کے بغیر نماز پڑھ لی جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں ۔ان دونوں میں سے کس کی رائے ٹھیک ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ترک رفع دیدین کے بارے میں سب سے زبردست عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ مگر اس میں بھی کئی طرح سے کلام ہے ملاحظہ ہوابوداؤد و ترمذی۔ اس لیے احتیاط رفع یدین کرنے ہی میں ہے ۔ نہ کرنے میں خطرہ ہے کہ نماز میں نقص آئے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نمازکی کیفیت کا بیان، ج2 ص122 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ