سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(90) کیا ایک اذان دو مرتبہ کہنا جائز ہے ؟

  • 772
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 709

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صبح کی اذان الاؤڈسپیکر پرکہے کاخیال تھالیکن وہ چل نہ سکا۔ اور اذان بغیر الاؤڈسپیکر کے کہی گئی۔چندمنٹ بعد الاؤڈ سپیکر درست ہوگیا تو دوبارہ وہی اذان الاؤڈ سپیکرپرکہی گئی تاکہ آواز دور تک پہنچ جائے۔بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس طرح دوبارہ اذان کہنے کاثبوت نہیں۔اس مسئلہ کی تحقیق فرمائی جائے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگرپہلے  ہمیشہ اذان الاؤڈسپیکر پرکہی جاتی ہے توپھر صورت مسئولہ میںدوبارہ الاؤڈ سپیکرپرکہی جاسکتی ہے کیونکہ جواذان الاؤڈسپیکر کےبغیر کہی گئی ہے اس کی آواز وہاں تک نہیں پہنچی جہاں تک پہلے الاؤڈسپیکر کےساتھ پہنچا کرتی تھی۔پس وہ انتطار میں ہوں گے کہ اذان ہوگی توسحری بند کریں گے یا فجر کی سنت پڑھیں گےیا نماز فجر کوجائیں گے۔جب اذا ن دوبارہ نہ ہوئی تو ان کودھوکہ لگے گا۔ کیونکہ پہلی اذان انہوں نے سنی ہی نہیں اوردھوکے کا دورکرنا شرعاً ضروری ہے۔چنانچہ حدیث میں ہےکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان فجر کےوقت سے پہلے کہہ دی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ یہ اعلان کر دے « الاان العبد قد نام »خبر دوتحقیق بندہ سوگیا ہے۔یعنی  ابھی  فجر نہیں ہوئی۔ میں سونے لگا ہوں یانیندکی وجہ سے اذان غلطی سے پہلے  کہی گئی ہے۔پس یہاں بھی یہی صورت ہے کہ لوگوں کودھوکا لگے گا۔اس لئے دوبارہ کہنی چاہیئے۔اور اگرپہلے اذان الاؤڈسپیکرپر کہی نہیں جاتی توپھر کسی کودھوکا نہیں ہوسکتا۔اس لئے دوبارہ اذان کہنے  کی ضرورت نہیں۔پہلی  اذان  ہی کافی ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،اذان کا بیان، ج2ص98 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ