سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(346) عالم اسلام کی موجودہ مشکلات کا حل کیا ہے؟

  • 7711
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-03
  • مشاہدات : 615

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عالم اسلام کی موجودہ مشکلات کا حل کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عالم اسلام اس وقت اختلاف سے دوچارہے ،اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اسلام سے وابستہ ہوجائے اورزندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالی کی شریعت کو نافذ کردے،اس کی صفوں میں جو انتشاروخلفشارہے وہ مٹ جائے گااوردلوں میں وحدت ویگانگت پیدا ہوجائے گی۔

عالم اسلام بلکہ کل عالم اس وقت جس اضطراب واختلاف اورقلق وفسادسےدوچارہے،اس کا شافی علاج یہی ہےجیسا کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّـهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ (محمد۴۷/۷)

‘‘اے اہل ایمان اگرتم اللہ کی مددکروگےتووہ بھی تمہاری مددکرے گااورتم کو ثابت قدم رکھے گا۔’’

اورفرمایا:

﴿وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌﴾ (الحج۲۲/۴۰۔۴۱)

‘‘اورجوشخص اللہ (کے دین) کی مددکرتا ہےاللہ اس کی مددضرورکرےگابے شک اللہ تعالی زبردست قوت اورغلبے والا ہے،یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس (قدرت واختیار) دیں تو نماز قائم کریں،زکوۃ اداکریں اورنیک کام کرنے کا حکم دیں اوربرے کاموں سے منع کریں اورسب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔’’

مزیدفرمایا:

﴿وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْ‌تَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِ‌كُونَ بِي شَيْئًا﴾ (النور۵۵/۲۴)

‘‘جولوگ تم میں سے ایمان لائے اورنیک کام کرتے رہےان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادےگاجیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اوران کے دین کو ،جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ،مستحکم و پائیدارکرےگا اورخوف کےبعد ان کو امن بخشے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔’’

اورفرمایا:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا﴾ (آل عمران۳/۱۰۳)

‘‘اورسب مل کراللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنااورمتفرق نہ ہونا۔’’

اس مضمون کی اوربھی بہت سی آیات ہیں ۔لیکن جب تک قائدین،کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺکو چھوڑ کرکسی اورجگہ سے ہدایت وراہنمائی حاصل کرتے رہیں گے،اللہ تعالی کی شریعت کو نافذ نہیں کریں گے اوراس کےبجائے ایسے قوانین نافذ کریں گے جو ان کے دشمنوں نے ان کے لئے بنائے ہوں تووہ اس پسماندگی اوراس انتشاروخلفشارسے کبھی نجات نہیں پاسکیں گے،دشمن انہیں حقیر سمجھتا رہے گا اورکبھی بھی انہیں ان کے حقوق نہیں د ے گا۔آہ:

﴿وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّـهُ وَلَـٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ (آل عمران۳/۱۱۷)

‘‘اوراللہ تعالی نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔’’

ہم اللہ تعالی سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ سب مسلمانوں کو ہدایت پر جمع فرمائے،ان کے قلوب اوراعمال کی اصلاح فرمائے اوران پر اپنا یہ فضل وکرم فرمائے کہ یہ اس کی شریعت کو نافذ کریں اورپھر استقامت کے ساتھ شریعت ہی کے دامن سے وابستہ رہیں اورشریعت کی ہر طرح کی مخالفت کرترک کردیں بے شک وہی قادروکارساز ہے۔ وصلي الله وسلم علي نبينا محمد وآله واصحبه

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 426

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ