سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(312) سگریت نوشی اور اس کی تجارت

  • 7677
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 717

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سگریٹ نوشی کے بارے میں کیا حکم ہے کیا یہ حرام ہے یا مکروہ ؟نیز اس کی تجارت کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سگریٹ نوشی حرام ہے کیونکہ یہ خبیث ہے اوراس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کے لئے کھانے پینے کی ان چیزوں کو حلال قراردیا ہے جو پاک ہیں اورجو ناپاک ہیں،ان کو حرام دے دیا ہے ،ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ﴾ (المائدہ۵/۴)

‘‘یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دیجئے کہ سب پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں۔’’

اسی طرح اللہ تعالی نے سورہ اعراف میں اپنے نبی حضرت محمد ﷺکی شان میں فرمایاہےکہ:

﴿يَأْمُرُ‌هُم بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ‌ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ (الاعراف۷/۱۵۷)

‘‘اورانہیں نیک کام کرنے کا حکم دیتے ہیں اوربرےکام سے روکتے ہیں اورپاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اورناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں۔’’

تمباکونوشی کی جتنی بھی قسمیں ہیں ،ان میں سے کوئی بھی پاک نہیں بلکہ یہ سب کی سب ناپاک ہیں،اسی طرح تمام نشہ آورچیزیں ناپاک ہیں،نہ سگریٹ نوشی جائز ہے اورنہ شراب کی طرح اس کی بیع وتجارت ہی جائز ہے۔جوشخص تمباکونوشی یا اس کی خریدوفروخت کرتا ہواسے فورااللہ تعالی سبحانہ وتعالی کے حضور توبہ کرنی چاہئے ،جو کچھ ہوا اس پر ندامت کرنی چاہئے اورپختہ عزم کرنا چاہئے کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گااورجوشخص صدق دل سے توبہ کرے تواللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرمالیتا ہے ،توبہ کے بارے میں اس نے اپنے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایاہےکہ:

﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (النور۳۱/۲۴)

‘‘اے اہل ایمان!تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کروتاکہ فلاح پاؤ۔’’

اورفرمایا:

﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ‌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ﴾ (طہ۸۲/۲۰)

‘‘اورجوشخص توبہ کرے اورایمان لائے اورعمل نیک کرے پھر سیدھے راستے چلے،اس کو میں بخش دینے والاہوں۔’’

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 403

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ