سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(310) مشت زنی سے بچنے کا طریقہ

  • 7675
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 1301

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھےمشت زنی کی عادت ہے،میں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوں اورجانتا ہوں کہ یہ حرام ہے ،میں نے اسےترک کردینے کا کئی بارارادہ بھی کیا لیکن پھر کبھی کبھی یہ کام کرنے لگتا ہوں ،امید ہے آپ رہنمائی فرماتے ہوئے کوئی ایسا طریقہ بتائیں گے جس سے میں یہ عادت چھوڑ سکوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشت زنی بلاشبہ حرام ہے ،اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں اوراس کا انجام بےحد خطرناک ہے جیسا کہ ماہر اطباءکی رائے ہے ۔یہی وجہ ہےکہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاہے:

﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُ‌وجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٥﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ‌ مَلُومِينَ ﴿٦﴾ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَ‌اءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾ (المومنون۲۳/۵۔۷)

‘‘اورجو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے مباشرت کرنے سے) انہیں ملامت نہیں اورجو ان کے سوااورروں کے طالب ہوں ،وہ (اللہ کی مقررکی ہوئی) حد سے نکل جانے والے ہیں۔’’

ان آیات کریمہ میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کے جو اوصاف بیان فرمائے ہیں یہ عادت ان کے خلاف ہے اوریہ اپنے نفس پر خود اپنے ہاتھوں ظلم اورزیادتی ہے ،لہذا اسے ترک کرنا واجب ہے اوراس کے ترک کرنے کے سلسلہ میں وہ علاج اختیار کرنا چاہئے جو نبی کریمﷺنے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لئے تجویز فرمایاہے ،چنانچہ آپؐ نے ارشادفرمایا‘‘اےگروہ نوجواناں!تم میں سے جو شخص (نکاح کرنے کی) طاقت رکھتا ہوتووہ شادی کرلے کیونکہ (شادی) اس کی نگاہ کو انتہائی جھکادینے والی اوراس کی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والی (چیز) ہے اورجو شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتووہ روزے رکھے،روزہ اس کی جنسی شہوت کو کچل دے گا۔’’ (۱) اس خبیث اورحرام عادت کو اس علاج نبویؐ سےترک کیا جاسکتا ہے جو روزہ نہ رکھ سکتایا اس عادت کو ترک نہ کرسکتاہوتووہ علاج کے لئے طبیب کی طرف بھی رجوع کرسکتا ہے کیونکہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

 ( (ماانزل الله دآءالاانزل له شفآء’علمه من علمه وجهله من جهله) )

‘‘اللہ تعالی نے جو بیماری بھی نازل کی ہے اس کی شفابھی نازل فرمائی ہے ،اسے جس نے جان لیا سوجان لیا اورجو اس سے ناواقف رہا سووہ ناواقف رہا’’

نبیﷺنے یہ ارشادبھی فرمایا ‘‘اے بندگان الہی!علاج کیا کرو مگر حرام اشیاءکے ساتھ علاج نہ کرو۔’’ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں،آپ کو اورتمام مسلمانوں کو ہربرائی سےمحفوظ رکھے۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 398

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ