سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(295) والدین کے ساتھ نیکی اوران کی اطاعت

  • 7660
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 497

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں بسااوقات بعض ضروری کاموں کی وجہ سے اپنی والدہ کی بات کو رد کردیتا ہوں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

والدین کے ساتھ نیک سلوک اورنیکی میں ان کی سمع واطاعت اہم واجبات میں سے ہے لہذا آپ پر واجب ہے کہ اپنی والدہ کے حق کو پورا کرو،اسے راضی کرنے کی کوشش کرو اورنیکی کے کام میں ان کی نافرمانی نہ کرواوراگرایک طرف آپ کے ضروری کام ہوں اوردوسری طرض والدہ کا کوئی مطالبہ ہو تو والدہ کو بتاکران سے اجازت لے لواوراپنے واجبات کو اداکرلو۔

اگرکام مئوخر کرنے کی صورت میں کوئی نقصان نہ ہو توپھر پہلے اپنی والدہ کے کام کو ترجیح دواوراگرایسا ممکن نہ ہو توان میں سے جو اہم ہو اورتاخیر کی صورت میں جس کے نقصان کا اندیشہ ہو تواللہ تعالی کے حسب ذیل ارشادپر عمل کرتےہوئے اسے پہلے سرانجام دے لو:

﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن۱۶/۶۴)

‘‘سوجہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرو۔’’

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 391

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ