سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(287) میں نے اپنے ماموں کی بڑی بیٹی کے ساتھ دودھ پیا تھا

  • 7652
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 721

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں جوان ہوں،میں نے اپنے ماموں کی بڑی بیٹی کے ساتھ دودھ پیا تھااوراس کے بعد اس کی کئی اوربہنیں بھی پیداہوئیں اوروہ اب شادی شدہ ہیں توکیا میرے لئے یا میرے بھائیوں میں سے کسی ایک کے لئے یہ جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک کا رشتہ طلب کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اےسائل!اگرآپ نے اپنے ماموں کی بیوی کا پانچ باریااس سے زیادہ باردودھ دوسال کی عمر میں پیا ہے توآپ کے ماموں کی تمام بیٹیاں آپ کی بہنیں ہیں،آپ ان میں سے کسی ایک سے بھی شادی نہیں کرسکتے لیکن آپ کے دوسرےبھائی جنہوں نے آپ کے ماموں کی بیوی کا دودھ نہیں پیا ان کے لئے آپ کی ماموں زادسےشادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ،جب کہ آپ کے ماموں کی بیٹیوں نے آپ کے بھائیوں کی ماں یا آپ کے باپ کی بیوی یاآپ کی بہنوں کا دودھ نہ پیاہو۔خلاصہ یہ کہ آپ کے بھائیوں کے لئے اپنے ماموں کی بیٹیوں سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ ان کے درمیان رضاعت کا رشتہ نہ ہو ۔جونکاح سے مانع ہو،اس لئے کہ ماموں کی بیوی سے رضاعت کا رشتہ آپ ہی کے ساتھ مخصوص ہے اس سے آپ کے ماموں کی بیٹیوں سےآپ کے بھائیوں کا نکاح کرنا حرام نہیں ہوگا۔واللہ ولی التوفیق۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 383

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ