سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(82) فجر کی نماز کا وقت

  • 764
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 1176

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نمازکس وقت ادا کیا کرتے تھے اوریہ بھی بتائیں کہ اس وقت گھڑی کاکیا ٹائم ہونا چاہیے اوریہ بھی تحریرفرمائیں کہ سردی اورگرمی ہردو موسموں میں فجرکی نماز کاوقت کیا ہے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نمازکس وقت ادا کیا کرتے تھے اوریہ بھی بتائیں کہ اس وقت گھڑی کاکیا ٹائم ہونا چاہیے اوریہ بھی تحریرفرمائیں کہ سردی اورگرمی ہردو موسموں میں فجرکی نماز کاوقت کیا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نمازفجر کا وقت بالاتفاق پوہ پھٹنے سےطلوعِ آ فتاب تک ہے۔افضلیت میں اختلاف ہے۔ بعض  کہتے ہیں روشنی کرکےپڑھنابہتر ہے۔بعض کہتے ہیں اندھیرے میں بہتر ہے۔   پہلے ہم فریقین کےدلائل لکھتے ہیں پھر راجح مذہب بتائیں گے۔انشاء الله

حدیث نمبر1 :

«عن عائشة رضی الله عنها قالت کنَّا نساء المؤمنات يشهدن معالنّبیِّ صلی الله عليه وسلم صلوة الفجر متلفعات بمروطهن ثم ينقلبن الیٰ بيوتهن حين يقضين الصلوة لايعرفهن احدٌ من الغلس ۔رواہ الجماعة وللبخاری ولايعرف بعضهن بعضاً(نتقیٰ باب وقت صلوۃ الفجر)»

عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے کہ مومن عورتیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجرکی نماز میں اپنی  بڑی چا دروں میں لپٹی ہوئی ہوتیں پھر نمازسےفارغ ہوکر گھروں کو لوٹ جا تیں ۔اندھیرے کی وجہ سے ان کو کوئی نہیں پہچانتا تھا۔

حدیث نمبر2 :

«عن ابی مسعود الانصاری انَّ رسول الله صلی الله عليه وسلم صلی صلوة الصبح مرّة بغلس ثم صلی مرّة اخرٰی فاسفربها ثم کانت صلوته بعد ذٰلک التغليس حتی مات لم يعد الٰی ان يسفر» (روا ہ ابوداؤدحواله مذکوره)

ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفجرکی نماز ایک مرتبہ اندھیرے میں پڑھی اورایک مرتبہ روشن کرکےپڑھی پھر وفات تک اندھیرے میں پڑھتے رہے روشن کرکے کبھی نہیں پڑھی۔

حدیث نمبر 3 :

«عن زيد بن ثابت قال تسحّر نا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم ثم قمنا الٰی الصلوة قلت کم کا ن مقدار مّا بينهما قال قدرخمسين اية » متفق عليه (حواله مذکور)

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ سحری کھائی پھر نماز کےلئے کھڑے ہوئے ۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے زید سے پوچھا کہ سحری اورنمازمیں کتنا فاصلہ فرمایا پچاس آیتوں قدر۔

حدیث نمبر 4 :

«عن ابن مسعود قال مارأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم صلی صلوة ً لغير ميقاتهاالاّصلوتين جمع بين المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر يومئذقبل ميقاتها متفق عليه ولمسلم قبل وقتها بغلس وولاحمد والبخاری عن عبدالرّحمان بن يزيد قال خرجت مع عبدالله فقدمنا جمعاً فصلی الصّلوتين کلّ صلوة وحدٰها باذان واقامة وتعشیّٰ بينهما ثم صلی حين طلع الفجر قائل ٌ يقول طلع الفجر وقائل يقول لم يطلع ثم قال انّ رسول الله صلی الله عليه وسلم انّ هاتين الصلوتين حوّلتا عن وقتهما فی هذا المکان المغرب والعشاء ولايقدم الناس جمعاً حتی يعتمواوصلو ٰة الفجر هذا الساعة» (حواله مذکورہ)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نےکبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا کہ آپ نےکوئی نماز بےوقت پڑھی مگردونمازیں۔ مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کوجمع  کیا اوراس د ن کی نماز اپنےوقت سےپہلے پڑھی روایت کیا اس کوبخاری نےاورمسلم میں یہ لفظ ہیں  اپنے وقت سےپہلے اندھیرے میں پڑھی ۔اوراحمداوربخاری میں ہے عبدالرحمان بن یزید کہتے ہیں  میں عبداللہ بن مسعود کےساتھ نکلاپس ہم مزدلفہ میں آئے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےمغرب اورعشاء الگ الگ اذان اوراقامت کےساتھ پڑھیں ۔ اور دونوں  کےدرمیان کھانا کھایا۔پھر فجرکی نمازپوہ پھٹتے پڑھی ۔کوئی کہتا پوہ پھٹ گئی ہے۔ کوئی کہتا نہیں پھٹی۔ پھر کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونمازیں مزدلفہ میں اپنے وقت سے ہٹائی گئی ہیں ایک مغرب دوسری عشاء۔لوگ مزدلفہ میں اندھیرا کرکے(عشاء کےوقت)آئیں (اورمغرب کوعشاء کےساتھ جمع کریں ) دوسری فجرکی نماز اس وقت (پڑھی جائے جس طرح صبح اچھی طرح روشن نہ ہوئی ہو۔کوئی کہے صبح ہوگئی اور کوئی کہے نہیں ہوئی)

حدیث نمبر5 :

«عن ابی الرّبيع قال کنت مع ابن عمر رضی الله عنه فقلت انی اصلی معک ثم التفت فلا اریٰ وجه جليسی ثم ارٰی احياناً تسفر فقال کذالک رأيت رسول الله صلی اللهعليه وسلم  يصلی احببت ان اصليها کما رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم  يصلِّيها۔»رواہ احمد (حواله مذکورہ)

ابوالربیع کہتےہیں  میں عبداللہ بن عمر کے ساتھ تھا میں نےکہا میں آپ کےساتھ نماز پڑھ کر ادھرادھر جھانکتا ہوں توساتھی کاچہرہ نہیں دیکھتا۔ پھردیکھتا ہوں کہ آپ روشن کرکے پڑھتے ہیں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواسی طرح پڑھتے دیکھا۔اس لئے میں دوست رکھتا ہوں کہ اسی طرح پڑھوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا۔

حدیث نمبر6 :

«عن معاذبن جبل قال بعثنی رسول الله صلی الله عليه وسلم الٰی اليمن قال يا معاذ اذاکان فی الشّتاء فغلس بالفجر واطل القرءة قدرمايطيق الناس ولاتملَّهم واذاکان الصَّيف فاسفربالفجر فانّ الليل قصيرٌ والناس ينامون فاملهم حتی يدرکوا رواہ الحسين بن مسعود البغوی فی شرح السنة واخرجه بقی بن مخلدفی مسندہ المصنف۔»(حواله مذکورہ)

معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجافرمایا! اے معاذرضی اللہ عنہ جب سردی ہوتوفجرکی نماز اندھیرے میں پڑھ اورقرأت لوگوں کی طاقت کےمطابق لمبی کراوران کوسست نہ کراورجب گرمی ہوتوفجرکوروشن کرکیونکہ رات چھوٹی ہے اور لوگ سوجاتے ہیں ۔پس ان کوذرا ڈھیل دےتاکہ وہ نمازپالیں۔

حدیث نمبر7 :

«عن رافع بن خديج قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم اسفروابالفجر فانّه اعظم للاجر رواہ الخمسة وقال الترمذی هذا حديث حسن صحيح »(حواله مذکورہ)

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا۔

صبح کوروشن کروکیونکہ یہ اجربہت بڑا ہے۔

حدیث نمبر8 :

«اخرجه ابن ابی شيبة واسحاق وغيرهما بلفظ ثوت بصلوة الصبح يا بلال حين يبصر القوم مواقع نبلهم من الاسفار۔»(نيل الاوطارجلداوّل ص319 )

ابن ابی شیبہ اوراسحاق وغیرہ نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبلال کوفرمایا صبح کی اقامت اس وقت کہہ جب روشنی کیوجہ سےقوم اپنے تیروں کےگرنے کی جگہ دیکھ لیتی ہے۔

حدیث نمبر9 :

ابی برزہ اسلمی سےروایت ہے:

«وکان ينفتل الٰی صلوة الغداة حين يعرف الرّجل جليسه ويقرأ بالستين الٰی المائة۔(مشکوٰۃ باب تعجيل الصلوة)

یعنی صبح کی نمازسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسےوقت فارغ ہوتے کہ انسان اپنے پاس بیٹھنے والوں کوپہچان سکے۔

حدیث نمبر10 :

حضرت عمررضی اللہ عنہ نےاپنے عاملوں کیطرف لکھا:

«والصبح والنجوم بادية مشتبکة» (مشکوةباب المواقيت)

یعنی صبح کی نمازایسےوقت پڑھوکہ ستارے روشن اورملےہوئے ہوں۔

حدیث نمبر1 :

ان دس حدیثوں سے نمبراول کی حدیث میں ذکرہے کہ فجر کی نماز سےفراغت کےوقت عورتوں کوکوئی دوسراپہچان نہیں سکتا تھا۔یاآپس میں ایک دوسری کونہیں پہچان سکتی تھیں۔پہچان کی دوصورتیں ہیں۔ایک یہ کہ پتہ نہیں لگتا تھاکہ مردہیں یا عورتیں۔ دوسری یہ کہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کون کونسی عورت ہے خدیحہ ہےیا زینب ہے۔داؤدی نےپہلی صورت اختیار کی ہے۔نووی بھی اسی کوترجیح دیتے ہیں اورکہتے ہیں دوسری صورت کمزور ہے۔ کیونکہ وہ بڑی چادروں میں لپٹی ہوئی شامل ہوتیں تویہ کہنا غلط ہے کہ اندھیرے کی وجہ سےان کی پہچان نہیں ہوتی تھی کیونکہ بڑی چادر میں لپٹی ہوئی عورت تودن کوبھی نہیں پہچانی جاتی کہ یہ کون ہے۔

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں کہتے ہیں نووی کایہ کہنا ٹھیک نہیں کیونکہ ہر عورت کی چال اورڈیل ڈول عموماً الگ ہوتی ہے توجوواقف ہوتا ہے وہ دن میں یا روشنی میں پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں عورت ہے ہاں اندھیرے میں مشکل ہے توگویا حافظ ابن حجرؒ کے نزدیک دوسری صورت بھی صحیح راجح ہے کیونکہ حدیث میں لفظ يعرف ہے جومعرفت اورعرفان سے ہے جس کےمعنی پہچان کےہیں۔اس کا تعلق جزئی یعنی معین شے سے ہوتا ہے کلی یعنی عام شے سےنہیں ہوتا مثلاً یوں کہا جاتا ہے کہ عرفته هوزيدام عمرو،میں نے پہچان لیاکہ زیدہے یا عمرو ہے۔یوں نہیں کہا جاتا عرفته اهوانسان ام فرس۔ میں نے پہچان لیا کہ انسان ہے یا گھوڑا ہے۔کیونکہ انسان ایک عام شے ہے۔زید عمرو بکروغیرہ سب پربولاجاتا ہے اسی طرح گھوڑا عام شے ہے ہزاروں گھوڑوں کو شامل ہے۔ہاں علم کااستعمال معین شے کی طرح عام شے میں بھی ہوتا ہے مثلاً کہا جاتاہے علمت اهوانسان ام فرس ،میں نے جان لیا کہ انسان ہے یا گھوڑاہے ۔پس اس بنا پر حدیث میں علم کالفظ ہونا چاہیے تھا یعنی یوں کہا جاتا ہے۔لايعلمهن احدٌ ۔یعنی ان کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ مرد ہیں یا عورتیں ہیں کیونکہ مردعورت کا لفظ انسان گھوڑے کی طرح عام ہے۔ ملاحظہ ہو فتح الباری مع تشريح جز3 صفحه 323 باب الفجر

اس کےعلاوہ حدیث میں یہ لفظ ہے کہ عورتیں آپس میں ایک دوسری کونہیں پہچانتی تھیں۔یہ بھی دوسری صورت کامویدہے۔ پہلی صورت اس میں ٹھیک نہیں بنتی کیونکہ عورتیں آپس میں قریب اوراکٹھی ہونے کی وجہ سےمرد عورت کی تمیز کرسکتی ہیں ۔خیرپہلی صورت ہویا دوسری۔اس حدیث  سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی نماز  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے۔

حدیث نمبر2 :

دوسری حدیث میں ذکرہے کہ ایک مرتبہ روشنی میں پڑھی پھر وفات تک اندھیرے میں پڑھتےرہے۔

حدیث نمبر3 :

تیسری حدیث میں سحری اورنمازفجر کےدرمیان پچاس آیتوں کا فاصلہ بتلایا ہے۔اس سےبھی ثابت ہوتا ہے روشنی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

حدیث نمبر4 :

 چوتھی حدیث میں ذکرہے کہ مزدلفہ میں فجرکی نمازوقت سے پہلے پڑھی۔اوریہ بات ظاہر ہےکہ وقت سے پہلے پڑھنےکایہ مطلب ہونہیں سکتا کہ پوہ پھٹنے  سے پٍڑھ لی بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگرچہ پوہ پھٹنے کےبعد پڑھی ہے لیکن جس وقت ہمیشہ پڑھتے تھے اس وقت سے پہلے پڑھی ۔پس معلوم ہوا کہ  ہمیشہ ذرا  دیر کرکے ذرا روشن کرکے پڑھتے۔

حدیث نمبر5 :

پانچویں حدیث سے ثابت ہوتا ہے کبھی اندھیرے میں پڑھتے کبھی روشنی میں۔

حدیث نمبر6 :

چھٹی حدیث میں گرمی سردی کافرق بتلایا ہے۔یعنی سردیوں میں  اندھیرا کر کےپڑھنے کاارشادفرمایا ہے گرمیو ں میں روشنی میں۔

حدیث نمبر7،8 :

ساتویں اورآٹھویں  میں روشن کرکے پڑھنےکا ارشاد فرمایا ہے۔

حدیث نمبر9 :

نویں میں ذکرہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فارغ ہوتے توانسان  اپنے پاس والے  کوپہچان سکتا تھا توگویا نمازاندھیرے میں پڑھ لیتے۔

حدیث نمبر 10 :

دسویں حدیث میں ذکرہے کہ ستارے روشن اور ملے ہوئے ہوں تونماز پڑھو۔یہ اندھیرے کا وقت ہے پس اس سے بھی اندھیرے میں پڑھناثابت ہوا۔جولوگ روشنی میں افضل کہتے ہیں  وہ پہلی تیسری نویں  دسویں  سےاستدلال کرتے ہیں ۔

نیل الاوطار جلداول صفحہ319 میں دوسرے مذہب کے قائل مندرجہ ذیل لوگ بتلائے ہیں ۔1 اھلبیت ۔2۔امام مالک ؒ۔3 ۔امام شافعیؒ ۔4 ۔امام احمدؒ ۔5 ۔امام اسحاق ؒ ۔6 ۔امام ابوثورؒ۔ 7 امام اوزاعی ؒ ۔8 امام داؤد بن  علی ؒ ۔9 امام ابوجعفر طبری ؒ ۔

پھرکہا ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ۔عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ۔انس رضی اللہ عنہ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےبھی یہی مروی ہے اوربحوالہ حازمی لکھاہے۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  اہل حجاز کابھی یہی قول ہے۔پہلے مذہب کےقائل مندرجہ ذیل لوگ ہیں ۔

امام ابوحنیفہ ؒ اوران کےشاگردامام ثوری،امام حسن بن حیؒ اکثر اہل عراق پھر کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ  اورعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےدو روایتیں ہیں۔ایک میں پہلے مذہب کےساتھ ہیں ۔ایک میں  دوسرے مذہب کےساتھ ہیں جودوسرے مذہب کےقائل ہیں یعنی اندھیرے میں افضل کہتے ہیں ۔وہ حدیث نمبر4 کایہ جواب دیتے ہیں کہ مزدلفہ میں نماز ایسےوقت پڑھی کہ کوئی کہتا صبح ہوگئی کوئی کہتا نہیں ہوئی ۔چنانچہ اسی حدیث میں تشریح ہے اورہمیشہ ایسےوقت پڑھتے کہ کسی کوشک نہیں رہتایعنی صبح واضح ہوجاتی ۔اورنمرے کی حدیث کا بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ روشن کرکےپڑھو یعنی صبح اچھی طرح واضح ہوجائے شک نہ رہے ۔اما م شافعی ؒ ،امام احمد ؒ ،امام اسحق ؒ سےترمذی میں یہی مطلب نقل کیاہےملاحظہ ہوترمذی باب وقت الصلوۃ الفجرصفحہ31 نمبر8 کی حدیث کا جواب دیتےہیں کہ یہ خاص واقعہ شایدکوئی ضرورت ہوگئی ہو۔اس لئے بلال رضی اللہ عنہ کوکہا  ذرا  ٹھہرکراقامت کہہ اورایسا اتفاق کئی دفعہ ہوجاتاہے کہ نمازآگے پیچھے پڑھی جاتی ہے۔خاص کرجب حدِّ جواز میں ہوتو معمولی سےعذرکےلئے آگے پیچھے ہوسکتی ہے اعتبارعام حالت کاہے اس لئے اصول میں لکھا ہے: «وقائع الاعيان لايحتج بها علی العموم» (نيل الاوطار جلد3 صفحه107) یعنی خاص واقعہ سے استدلال صحیح نہیں ۔اوراس سےنمبر5 کی حدیث کامطلب بھی واضح ہوگیا۔یعنی رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نےکسی عارضہ سےروشنی میں پڑھی ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو عارضہ کاعلم نہیں ہوا۔اس لئے وہ دونوں طرح عمل کرتے۔ اس کےعلاوہ نمبر5 کی حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ روشنی میں نمازپڑھتے بلکہ نمازتواندھیرے میں ہی پڑھتے لیکن کبھی فراغت  تک اتنی روشنی نہ ہوتی کہ پاس بیٹھنے والے کا منہ نظر آئے۔بعض دفعہ پڑھتےپڑھتے اتنی روشنی ہوجاتی چنانچہ حدیث نمبر5 میں جملہ فلااری وجه جليسی(میں اپنے پاس بیٹھنے والے کاچہرہ نہیں دیکھتا)سےیہ مطلب بخوبی واضح ہوجاتا ہےنیزاس حدیث میں ابوالربیع راوی ہے ۔دارقطنی نےاس کومجہول کہاہے (نیل الاوطارجلداول صفحہ221 )پس حدیث ضعیف ہوئی۔رہی نمبر4 کی حدیث سواس کی بابت امام شوکانیؒ کہتے ہیں کہ ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث(جونمبر2 میں گذر چکی ہےاس)میں تصریح ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات تک نماز اندھیرے میں پڑھتے رہےاورمعاذرضی اللہ عنہ والی حدیث (وفات سےقریباً دو سال) پہلے ہےکیونکہ معاذ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یمن بھیجا ہے جب مکہ فتح ہوا۔جیسےابن عبدالبر نے استیعاب میں لکھا ہے۔اورمکہ سن 8ھ میں فتح ہوا ہے)اوراعتبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےاخیرکام کا ہوتاہے۔یعنی جب آپ کی دو باتوں میں بظاہرتعارض معلوم ہوا تواخیری بات پر عمل  کیاجاتا ہے۔ پس نمازفجرکااندھیرے میں پڑھنا راجح ہوا۔اس کےعلاوہ ایک اوربھی وجہ ہوسکتی ہے وہ یہ کہ یمن میں عرب کی نسبت زیادہ گرمی ہے۔اور راتیں زیادہ چھوٹی ہیں توایسے ملکوں میں سردیوں کی نسبت گرمیوں میں بیس پچیس منٹ انتظارکرلیا جائے یعنی ایسے ملکوں میں سردیوں میں دھاری واضح ہوتے ہی سنتیں پڑھ کرنمازپرکھڑا ہوجائے اور گرمیوں میں اس کواورروشن کرے لیکن ایسانہ ہوکہ زیادہ دن چڑھا دے جس سے اس دھاری کانام ونشان نہ رہے۔اس طرح سےسب احادیث میں آپس میں موافقت ہوجاتی ہے اورکسی قسم کااختلاف باقی نہیں رہتا۔

موافقت کی اورصورتیں اورعلما کی آراء

1۔امام طحاوی ؒجوحنفیہ کےبڑے بزرگ ہیں وہ سب احادیث میں یوں موافقت کرتےہیں کہ نماز اندھیرے میں شروع کی جائے اورقرأت اتنی لمبی کی جائے کہ ختم تک روشنی ہوجائے۔لیکن شوکانی ؒنیل الاوطار جلداول صفحہ319 میں کہتے ہیں کہ ویسے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نمازمیں ہمیشہ قرأت لمبی پڑھتے تھے۔اگر زیادہ لمبی صورتیں پڑھتے (جیسےایک مرتبہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فجر کی نمازمیں سورہ بقرہ پڑھی جب فارغ ہوئے توکہا گیاقریب تھا کہ سورج نکل آئے ۔فرمایا:لوطلعت لم تجدنا  غافلين۔یعنی اگر آفتاب نکل آتا توہمیں غافل نہ پاتا ۔

یعنی سوئے ہوئے پرآفتاب کانکلنا نقصان ہے۔اگر اس طرح لمبی سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پڑھتے توہمیشہ بہت روشنی پھیلنے کےبعد فراغت ہوتی۔اور یہ حضرت عائشہ کی  حدیث(جونمبر اول میں گذرچکی ہے) کےخلاف ہےکیونکہ اس میں یہ ہے کہ فراغت کےوقت عورتوں کو کوئی نہیں پہچان سکتا تھا(انتہی مع تشریح )اورنمبر 9 کی بھی حدیث کےخلاف ہے کیونکہ اس میں ہےکہ فراغت کےوقت اپنے پاس والے کی پہچان ہوسکتی گویا روشنی ابھی تک پھیلتی نہیں تھی ۔ہاں اگرامام طحاوی ؒ کی مراد  روشنی سے روشنی کا پھیلنا نہ ہوبلکہ اتنی روشنی ہوکہ جس سے پاس والے کاچہرہ پہچانا جاسکے تویہ بالکل ٹھیک ہے۔

2 :بعض کہتے ہیں روشنی میں پڑھنے کا حکم چاندنی راتوں میں ہے کیونکہ چاندنی راتوں میں پوہ اچھی طرح معلوم نہیں ہوتی۔اس لئےحکم دیا ذراروشن کرکے پڑھو تاکہ پوہ میں کسی قسم کا شک شبہ نہ رہے۔یہ صورت موافقت کی اچھی ہے۔اور اس سےسب احادیث میں موافقت ہوجاتی ہے۔لیکن نمبر6 کی حدیث رہ جاتی ہے سواس کاجواب آخروہی ہوگا جوہم نے دیا ہے یا امام شوکانی نے دیا ہے یعنی یاتویوں  کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اخیری بات پر عمل کیاجاتا ہے اوراندھیرے میں پڑھنا اخیری بات ہے کیونکہ وفات تک اس پرعمل رہا ہے یایوں کہاجائے جوملک عرب سے زیادہ گرم ہیں  اوران کی راتیں  چھوٹی ہیں تووہاں  یہ حکم ہے کہ پوہ پھٹنے کے بعد بیس پچیس منٹ انتظارکرلیا جائے تاکہ لوگ شامل ہوجائیں ۔

3 :امام خطابیؒ کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ جب ان کوحکم ہوا کہ نمازجلدی پڑھیں یعنی وقت میں دیرنہ کریں توانہوں نےصبح کاذب اورصبح صادق کےدرمیان نماز پڑھنی شروع کردی۔اس پرحکم ہوا اسفروا بالفجر الحديث۔یعنی فجرکوروشن کرو۔صبح صادق کے بعدپڑھو۔کیونکہ اس میں اجربہت بڑا ہے۔

ایک شبہ اوراس کا جواب

صبح صادق کے پہلےنمازہوتی ہی نہیں تویہ کیوں فرمایا کہ اس میں اجربہت ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ جونمازتم پہلے پڑھتےہو وہ تونہیں ہوتی ،اس کاجواب یہ ہےکہ اگرچہ پہلی نماز ان کی صحیح نہ تھی لیکن ان کواجرملاکیوں کہ یہ ان کی اجتہادی غلطی میں ایک اجر ہے پس فرمایا صبح صادق کےبعد نمازپڑھو کیونکہ یہ اجرمیں بہت بڑا ہے یعنی پہلی نمازسے۔

اس صورت سے بھی سب حدیثوں میں موافقت ہوجاتی ہے لیکن نمبر6 اور نمبر8 کی باقی رہ جاتی ہیں۔سوان کاجواب وہی ہوگا جوگذرچکا ہے۔

ایک شبہ اوراس کا جواب

روشنی میں پڑھنے کی حدیثیں قولی ہیں۔اوراندھیرے میں پڑھنےکی فعلی۔اور تعارض کےوقت قول فعل پرمقدم ہوتا ہے۔کیونکہ فعل میں خاصہ وغیرہ ہونے کااحتمال ہے توروشنی کی احادیث مقدم ہونی چاہئیں۔اس  کےدو جواب ہیں ایک یہ کہ یہاں خاصہ وغیرہ ہونے کااحتمال نہیں کیونکہ آپ کے ساتھ صحابہ بھی شامل تھے دوسرا جواب یہ کہ نمبر4 کی حدیث قولی ہے اس میں سردیو ں میں اندھیرے میں پڑھنے کا ا رشاد فرمایا ہے۔

تیسرا جواب یہ کہ قولی مقدم اس وقت ہوتی ہے جب موافقت نہ ہوسکے یہاں ہم نے موافقت کردی ہے جس کاخلاصہ یہ ہےکہ اندھیرے میں نماز پڑھنی افضل ہے۔اورجن حدیثوں میں روشن کرنے کاذکر ہے ان سےپوہ کا واضح کرنا مراد ہے اورنمبر4 کی حدیث عرب سے زیادہ گرم ملکوں کےلئے ہے اورنمبر8 کی حدیث عذر پرمحمول ہے ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نماز کا بیان، ج2 ص61 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ