سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(81) فجر کی اذان وقت سے پہلےکہنا

  • 763
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 721

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فجرکی اذان جلدی کہی گئی ہویا شبہ میں کہی جائے تواس کاکیاحکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

فجرکی اذان شبہ میں ہوجائے توکوئی حرج نہیں ۔نماز شبہ میں نہ ہونی چاہیئے۔

موطا امام مالک میں ہے :

«لم تزل الصبح ينادی بها قبل الفجر فاما غيرها من الصلوٰت فانالم نرها ينادی بها الابعد ان يحل وقتها»

یعنی تعامل اس پر چلاآرہا ہے کہ فجر کی اذان پوہ پھٹنے سےپہلے ہوتی رہی ہے۔اس کے سوا اور کسی نماز کی اذان کاوقت پہلے ہونا معلوم نہیں  ہوتا۔مگر رمضان میں فجر کی اذان پوہ پھٹنے سے پہلے نہ دینی چاہیئے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نماز کا بیان، ج2ص91 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ