سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(258) ایک مجلس کی تین طلاقیں

  • 7623
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 329

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک ہی کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں یا ایک ہی مجلس میں الگ الگ تین طلاقیں دینا حرام ہیں اورایسا کرنے والے کو گناہ گارسمجھا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے ،بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہےجب کہ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ اس سے طلاق بالکل واقع ہوتی ہی نہیں ،کیونکہ یہ طلاق بدعی ہے،اوراللہ تعالی کے مقررکردہ طریقے کے خلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق نبی کریمﷺسے ثابت شدہ صحیح حکم کیا ہے،عکرمہ کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےمروی حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺنے رکانہ کی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قراردیا تھا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک ہی کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں یا ایک ہی مجلس میں الگ الگ تین طلاقیں دینا حرام ہیں اورایسا کرنے والے کو گناہ گارسمجھا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے ،بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہےجب کہ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ اس سے طلاق بالکل واقع ہوتی ہی نہیں ،کیونکہ یہ طلاق بدعی ہے،اوراللہ تعالی کے مقررکردہ طریقے کے خلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق نبی کریمﷺسے ثابت شدہ صحیح حکم کیا ہے،عکرمہ کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےمروی حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺنے رکانہ کی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قراردیا تھا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ جب آدمی اپنی عورت کو ایک یہ کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دے دے تواسے ایک طلاق شمار کیا جائے گاکیونکہ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺکے عہد (زمانے ) میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے عہد میں اورحضرت عمررضی اللہ عنہ کے عہدخلافت کے ابتدائی دوسالوں تک تین طلاقوں کو ایک ہی قراردیا جاتا تھا،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے اس مسئلہ میں جلد بازی سے کام لینا شروع کردیا ہے،جس میں ان کے لئے مہلت تھی لہذا اس کو اگر ہم نافذ کردیں تو؟۔۔۔۔چنانچہ انہوں نے اسے نافذ کردیا ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگردوں اوردیگر اہل علم نے اسی بات کو اختیار کیا ہے ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ثابت ہے ۔سیرت نگارامام محمد بن اسحاق کا بھی یہی قول ہے اوریہی قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اوران کے شاگرد علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے۔

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو بھی اختیار کیا ہے کہ دوسری اورتیسری طلاقیں نکاح یا رجعت کے بعد ہی واقع ہوں گی اورپھر اس کے انہوں نے کئی اسباب ذکر کئے ہیں،لیکن میرے علم کے مطابق آپ کے اس دوسرے قول کی ادلہ شرعیہ میں سے کسی دلیل سے تائید نہیں ہوتی ۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بھی کسی کا قول اس کی تائید میں نہیں ہے لہذاصحیح بات بس یہی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں گی ،باقی رہی حدیث رکانہ تووہ اس مسئلہ میں صریح نہیں ہے،اس حدیث کی سند میں بھی کلام ہے کیونکہ اسے داودبن حصین نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اوراس روایت کو محدثین کی ایک جماعت نے ضعیف قراردیا ہےجیسا کہ ‘‘تقریب’’ ‘‘تہذیب’’اوردیگر کتابوں میں داودمذکورکے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے ۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 347

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ