سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(256) کیا شادی شدہ شخص کے زنا کرنے سے اس کی بیوی حرام ہو جائے گی؟

  • 7621
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 737

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاجب کوئی شادی شدہ شخص زناکرےتواس سےاس کی بیوی اس پرحرام ہوجاتی ہےاوراگرعورت بدکاری کرےتواس کاشوہراس پرحرام ہوجاتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دونوں میں کوئی کسی پرحرام تونہیں ہوتالیکن اس گناہ کےارتکاب کی وجہ سےدونوں کواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرنی چاہئےاورتوبہ کےبعدایمان صادق اورعمل صالح کامظاہرہ کرناچاہئے۔سچی توبہ اسی صورت میں ہوتی ہےکہ توبہ کرنےوالاگناہ کوچھوڑدے،جوکچھ ہوچکااس پرندامت کااظہارکرےاورعزم مصمم کرےکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کےخوف،اس کی تعظیم،اس کےثواب کی امیداوراس کےعذاب کےڈرکی وجہ سےوہ آئندہ اس گناہ کاارتکاب نہیں کرےگاارشادباری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ‌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ﴾ (طہ۸۲/۲۰)

‘‘اورجوشخص توبہ کرے،ایمان لائےاورعمل نیک کرےپھرسیدھےراستےپرچلتارہےاس کومیں بخش دینےوالاہوں۔’’

اورفرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا (التحریم۸/۶۶)

‘‘اےایمان والو!اللہ کےسامنے (صاف دل سے) خالص سچی توبہ کرو۔’’

مزیدفرمایا:

﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (النور۳۱/۲۴)

‘‘اےاہل ایمان!تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کروتاکہ فلاح پاؤ۔’’

زناحرام امورمیں سب سےبڑھ کرحرام اوراکبرالکبائر (سب سےبڑاگناہ) ہے۔اللہ تعالیٰ نےمشرکوں،ناحق قتل کرنےوالوں اورزانیوں کوسرزنش کرتےہوئےکہاہےکہ ان کےلئےقیامت کےدن دوگناعذاب ہوگااورذلیل وخوارہوکرہمیشہ عذاب الہٰی میں مبتلارہیں گےکیونکہ ان کاجرم بہت بڑااوران کافعل بےحدقبیح ہے،جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّ‌مَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴿٦٨﴾ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ﴿٦٩﴾ إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ (الفرقان۲۵/۶۸۔۷۰)

‘‘اورجواللہ کےساتھ کسی اورمعبودکونہیں پکارتےاورجس جاندارکومارڈالنااللہ نےحرام، قراردیاہےاس کوقتل نہیں کرتےمگرجائزطریق (یعنی شریعت کےحکم) سےاوربدکاری نہین کرتےاورجویہ کام کرےگاسخت گناہ میں مبتلاہوگاقیامت کےدن اس کودوگناعذاب ہوگااورذلت وخواری سےہمیشہ اس میں رہےگامگرجس نےتوبہ کی اورایمان لایااوراچھےکام کئے۔’’

ہرمسلمان مرداورعورت پریہ واجب ہےکہ وہ اس بہت بڑی فحاشی وبدکاری اوراس کےاسباب ووسائل سےاجتناب کرےاورجوکچھ پہلےہوچکااس سےسچی توبہ کرے،صدق دل سےتوبہ کرنےوالوں کی توبہ کواللہ قبول فرمالیتاہےاوران کےگناہوں کومعاف فرمادیتاہے،والله ولي التوفيق_

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 344

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ