سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(253) کیا تعدد زوجات کی صورت میں عدل وانصاف شرط ہے

  • 7618
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 1261

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تعددازواج کے لئے کیا حکم ہے ،اگریہ جائز ہے تو کیا عدل وانصاف شرط ہے؟کیا یہ بھی عدل وانصاف کا حصہ ہے کہ مباشرت کرنے اورشب بسری کرنے میں بھی مساوات ہو؟جو شخص عدل وانصاف توکرسکتا ہو لیکن تعددازواج سے ا س کا مقصود فخرومباہات ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تعددازواج اس شخص کے لئے سنت ہے ،جس میں اس کی طاقت ہو اوراس سے اس کا مقصود عفت وپاکبازی ،غض بصر،تکثیر نسل اورامت کی حوصلہ افزائی ہوتاکہ امت اس حلال طریقے کو اختیار کرکے حرام سے بچ سکے اورامت مسلمہ کثرت کے اسباب کو اختیار کرسکے تاکہ دنیا میں اللہ تعالی کی عبادت کرنے والوں کی کثرت ہویا اس طرح کے دیگر نیک مقاصد پیش نظر ہوں تو پھر تعددازواج سنت ہے اوراس کی دلیل حسب ذیل ارشادباری تعالی ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ (النساء۴/۳)

‘‘اوراگرتمہیں اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکوگے توان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دودویا تین تین یا چارچاران سے نکاح کرلو اوراگراس بات کااندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے توایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو اس سے تم بے انصافی سے بچ جا وگے۔’’

اورفرمایا:

﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (الاحزاب۲۱/۳۳)

‘‘یقینا تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی ذات میں بہترین (عمدہ ) نمونہ موجود ہے۔’’

نبی ﷺکے حبالہ عقد کئی ازواج مطہرات تھیں،آپؐ ان میں عدل وانصاف فرمایاکرتے تھے اورپھر اس کے ساتھ یہ دعابھی فرماتے کہ :

 ( (اللهم حزا قسمي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك) )

‘‘اے اللہ !یہ میری وہ تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں اوراس میں مجھے ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے مگر میں مالک نہیں ہوں۔’’

اس حدیث کو اہل سنن نے باسناد صحیح روایت کیا ہے ،نبی ﷺکی مرادیہ ہے کہ انسان کے لئے ان امورمیں عدل وانصاف واجب ہے جو اس کے اختیا رمیں ہیں مثلا خرچ کرنا اورشب بسرکرنا وغیرہ لیکن محبت اورمباشرت وغیرہ ایسے امور ہیں جوانسان کے مقدورمیں نہیں ہیں۔مسلمان بیک وقت چار سے زیادہ عورتوں کو اپنےنکاح میں نہیں رکھ سکتا جیسا کہ اس سلسلہ میں وارد صحیح سنت سے ثابت ہے جس سے اس آیت کریمہ کی تفسیر بھی ہوجاتی ہے ،واللہ ولی التوفیق۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 342

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ