سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(250) رشتہ طلب کرنے والے کفو کو مسترد کرنا نیکی ہے

  • 7615
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 398

سوال

 
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اپنی ایک مشکل کا حل چاہتی ہوں۔میں چوبیس برس کی ایک نوجوان لڑکی ہوں۔میرے ساتھ شاکی کا خواہش مند ایک نوجوان آیا جس نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرلی ہے اورایک دینی گھرانے سے اس کا تعلق ہے ،میرے والدنے اس رشتہ پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے اورمجھ سے مجلس میں آنے کے لئے کہا تاکہ میں اس نوجوان کو دیکھ لوں تومیں نے اسے دیکھا اوراس نے مجھے ۔میں نے اسے پسند کیا اوراس نے مجھے،کیونکہ ہمارے دین حنیف نے اس موقع پر ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت دی ہے لیکن جب میری والدہ کو یہ معلوم ہوا کہ اس نوجوان کا ایک دینی گھرانے سے تعلق ہے تواس نے اس نوجوان اورمیرے والد کی رائے کے برعکس دنیا کو ترجیح دی اورقسم کھا کرکہا کہ یہ رشتہ کسی صورت بھی نہیں ہوسکتا میرے والد نے بہت کوشش کی لیکن بے فائدہ ۔۔۔۔۔توسوال یہ ہے کیا اس مسئلہ میں مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں شریعت سے مطالبہ کروں کہ وہ میرے اس مسئلہ میں مداخلت کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرامرواقعہ اسی طرح ہے جس طرح سائلہ نے ذکر کیا ہے تواس کی والدہ کو اس سلسلہ میں اعتراض کا نہ صرف حق نہیں بلکہ اعتراض کرنا حرام ہے اوراے لڑکی!اس سلسلہ میں تیرے لئے اپنی والدہ کی اطاعت بھی لازم نہیں ہے کیونکہ نبی کریمﷺکا ارشادگرامی ہے کہ‘‘اطاعت توصرف نیکی میں ہے ’’اوریہ نیکی نہیں یہ رشتہ طلب کرنے والے کفو کومسترد کردیا جائے بلکہ نبی کریمﷺکا تویہ ارشادہے کہ‘‘جب تم میں سے کوئی ایسا شخص رشتہ طلب کرے جس کا دین واخلاق تمہیں پسند ہوتواسے رشتہ دے دو،ورنہ زمین میں فتنہ اوربڑافسادرونما ہوجائے گا’’اوراگربوقت ضرورت اس مسئلہ کےلئےعدالت میں جاناپڑےتواس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 339

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ