سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(233) فلاحی منصوبےکی رقم سےقرض لینااورپھراسےواپس کردینا

  • 7598
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 342

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اہل خیرنےمجھ پراعتمادکیااورمجھےمدرسہ ثانویہ کی تعمیرکےلئےجمع کئےگئےعطیات کاخزانچی بنادیا،اس مدرسہ کی تعمیرجاری تھی کہ مجھےاپناذاتی گھربنانےکےلئےاس رقم کی ضرورت پیش آگئی اورمیں نےاسے اپنی ذاتی ضرورت کےلئےاستعمال کرلیالیکن مدرسہ کی تعمیرکےمنصوبےکی تکمیل سےپہلےہی میں نےوہ رقم مدرسہ کی خصوصی کمیٹی کےسپردکردی اورکہاکہ یہ مال ایک مخیرخاتون کی طرف سےہےجواپنانام ظاہرنہیں کرناچاہتی لیکن درحقیقت یہ وہی رقم تھی جومیرےذمہ واجب الاداءتھی لیکن حقیقت کےاظہارمیں شرمندگی کےباعث میں نےاس طرح بات کی۔کیااس رقم کےاستعمال کی وجہ سےمجھےگناہ ہوگا؟یادرہےیہ رقم میں نےلوٹادی ہےسوال یہ ہےکہ اب اس غلطی سےتوبہ کس طرح کی جائے،براہ کرم رہنمائی فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل خیرنےمجھ پراعتمادکیااورمجھےمدرسہ ثانویہ کی تعمیرکےلئےجمع کئےگئےعطیات کاخزانچی بنادیا،اس مدرسہ کی تعمیرجاری تھی کہ مجھےاپناذاتی گھربنانےکےلئےاس رقم کی ضرورت پیش آگئی اورمیں نےاسے اپنی ذاتی ضرورت کےلئےاستعمال کرلیالیکن مدرسہ کی تعمیرکےمنصوبےکی تکمیل سےپہلےہی میں نےوہ رقم مدرسہ کی خصوصی کمیٹی کےسپردکردی اورکہاکہ یہ مال ایک مخیرخاتون کی طرف سےہےجواپنانام ظاہرنہیں کرناچاہتی لیکن درحقیقت یہ وہی رقم تھی جومیرےذمہ واجب الاداءتھی لیکن حقیقت کےاظہارمیں شرمندگی کےباعث میں نےاس طرح بات کی۔کیااس رقم کےاستعمال کی وجہ سےمجھےگناہ ہوگا؟یادرہےیہ رقم میں نےلوٹادی ہےسوال یہ ہےکہ اب اس غلطی سےتوبہ کس طرح کی جائے،براہ کرم رہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس شخص کےپاس کوئی مال بطورامانت رکھاجائےخواہ وہ کسی سکیم یامنصوبےکےلئےہواسےذاتی ضرورت کےلئےاستعمال کرناجائزنہیں ہےبلکہ واجب یہ ہےکہ اس کی پوری پوری حفاظت کی جائےحتیٰ کہ اسےاس کےمصرف میں صرف کردیاجائے۔امانت میں خیانت اورکذب بیانی سےکام لینےپراللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں توبہ کیجئے،جوشخص صدق دل سےتوبہ کرےاللہ تعالیٰ اس کی توبہ کوقبول فرمالیتاہےارشادباری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا﴾ (التحریم۸/۶۶)

‘‘اےایمان والو!تم اللہ تعالیٰ کےآگےصاف دل سے (سچی خالص) توبہ کرو۔’’

اورفرمایا:

﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (النور۳۱/۲۴)

‘‘اوراےمومنو!سبھی اللہ کےآگےتوبہ کروتاکہ فلاح پاؤ۔’’

سچی پکی توبہ یہ ہوتی ہےکہ جوگناہ ہواہواس پرمذامت کااظہارکیاجائے،اللہ تعالیٰ کےخوف اوراس کی تعظیم کےباعث اس کوچھوڑدیاجائےاورسچیپکاارادہ کیاجائےکہ اب اس کاارتکاب نہیں کرنا۔اگرلوگوں کےخون،مال یاعزت وآبروکےبارےمیں لوگوں پرظلم کیاگیاہوتواسےان سےمعاف کروایاجائےاوراگرلوگوں پرظلم،غیبت وغیرہ کےقبیل سےہواورخدشہ ہوکہ انہیں بتانےکی صورت میں زیادہ بڑانقصان ہوگاتوانہیں نہ بتائےاوران کےلئےدعا واستغفارکرےاورغیبت کرکےان کی جوبرائی کی تواب اس کامداوااپنےعلم کےمطابق ان کی خوبی وبھلائی کاچرچاکرکےکرے، والله ولي التوفيق_

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 323

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC