سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(231) کرنسی کی قیمت کے اختلاف کے ساتھ قرض اداکرنا

  • 7596
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-02
  • مشاہدات : 393

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نےایک غیرمسلم سےاضطراری حالات میں اس شرط پرقرض لیاکہ میں اسےآزادکرنسی کی قیمت کےمساوی یعنی اپنےملک کی کرنسی کےعلاوہ کسی اورکرنسی میں سعودیہ اپنےکام کی جگہ پرواپس آکرلوٹاؤں گااورجب کچھ مدت بعدمیں سعودیہ واپس آیاتو آزادکرنسی کی قیمت میں بہت اضافہ ہوچکاتھاجس کےمعنی یہ ہیں کہ مجھےاصل قرض سےدوگنی رقم اداکرناپڑےگی توکیاآزادکرنسی میں قرض اداکرناجائزہے؟یامیں اس شخص کی طرف وہ اصل رقم ہی روانہ کروں جومیں نےبطورقرض لی تھی؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نےایک غیرمسلم سےاضطراری حالات میں اس شرط پرقرض لیاکہ میں اسےآزادکرنسی کی قیمت کےمساوی یعنی اپنےملک کی کرنسی کےعلاوہ کسی اورکرنسی میں سعودیہ اپنےکام کی جگہ پرواپس آکرلوٹاؤں گااورجب کچھ مدت بعدمیں سعودیہ واپس آیاتو آزادکرنسی کی قیمت میں بہت اضافہ ہوچکاتھاجس کےمعنی یہ ہیں کہ مجھےاصل قرض سےدوگنی رقم اداکرناپڑےگی توکیاآزادکرنسی میں قرض اداکرناجائزہے؟یامیں اس شخص کی طرف وہ اصل رقم ہی روانہ کروں جومیں نےبطورقرض لی تھی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قرض صحیح نہیں ہےکیونکہ یہ درحقیقت موجودہ کرنسی کی ایک دوسری کرنسی کےساتھ ادھاربیع ہےاوراس صورت میں یہ ایک سودی معاملہ ہےکیونکہ ایک کرنسی کی دوسری کرنسی کےساتھ صرف دست بدست بیع ہی جائزہےلہٰذاآپ اس شخص کی طرف صرف وہی رقم لوٹادیجئےجوآپ نےاس سےقرض لی تھی اوراس سودی معاملہ کےکرنےکی وجہ سےاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کیجئے۔وبالله التوفيق_

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 322

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ