سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(196) والدین کی طرف سےحج

  • 7561
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-01
  • مشاہدات : 455

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں بہت چھوٹی عمرکاتھا،جب میری والدہ کاانتقال ہوگیاتھاتوان کی طرف سےمیں نےایک قابل اعتمادآدمی کوحج پربھیجاہے،میرےوالدکابھی انتقال ہوگیاتھااورمیں ان دونوں میں سےکسی کوبھی نہیں پہچانتا،میں نےاپنےبعض رشتہ داروں سےسناہےکہ میرےوالدنےحج کیاتھا،سوال یہ ہےکہ میں اپنی والدہ کی طرف سےکسی کوحج پربھیج سکتاہوں یامیرےلئےیہ لازم ہےکہ میں خودان کی طرف سےحج کروں؟کیامیں اپنےوالدکی طرف سےبھی حج کروں جب کہ میں نےسناہےکہ انہوں نےحج کیاتھا؟امید ہےرہنمائی فرماکرشکریہ کاموقع بخشیں گے!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرآپ اپنےوالدین کی طرف سےخودحج کریں اورشرعی طریقےسےحج کےتمام مناسک مکمل طریقےسےاداکریں تویہ افضل ہےاوراگراہل دین وامانت میں سےکسی کوان کی طرف سےحج کےلئےبھیج دیں،تواس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن افضل یہ ہےکہ آپ خوداپنےوالدین کی طرف سےحج وعمرہ اداکریں،اسی طرح اگرآپ ان کی طرف سےکسی کونائب بناکربھیجیں تواسےبھی یہ حکم دیں کہ وہ آپ کےوالدین کی طرف سےحج وعمرہ اداکرے،یہ آپ کی اپنےماں باپ سےنیکی اورحسن سلوک ہےاللہ تعالیٰ ہم سب کےاعمال کوشرف قبولیت سےنوازے!


 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 293

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ