سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(171) میں ایک تنخواہ دارملازم ہوں اورمیں نے سنا کہ ایک تاجر ۔

  • 7536
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-01
  • مشاہدات : 361

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں ایک ملازم ہوں اور تقریبا تین ہزارریال ماہانہ تنخواہ لیتا ہوں،ایک دفعہ میں نے سنا کہ کسی موقعہ کی مناسبت سےایک تاجر صدقہ کا مال تقسیم کررہا ہے تومیں بھی اس کے پاس چلاگیا اوراس نے مجھے بھی مال دے دیا تو کیا میرے لئےیہ مال حلال ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک ملازم ہوں اور تقریبا تین ہزارریال ماہانہ تنخواہ لیتا ہوں،ایک دفعہ میں نے سنا کہ کسی موقعہ کی مناسبت سےایک تاجر صدقہ کا مال تقسیم کررہا ہے تومیں بھی اس کے پاس چلاگیا اوراس نے مجھے بھی مال دے دیا تو کیا میرے لئےیہ مال حلال ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرآپ کی تنخواہ سے آپ کی اورآپ کے اہل وعیال کی بنیادی ضرورتیں ۔۔۔اسراف اورفضول خرچی کے بغیر ۔۔۔پوری نہ ہوتی ہوں تو آپ کے لئے زکوۃ حلال ہے ورنہ نہیں ۔۔۔۔اللہ تعالی ہمیں اورآپ کو دین میں فقاہت عطافرمائے اورآپ کو اپنے فضل وکرم سے غنی کردے۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 266

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ