سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(156) کیا شادی یا گھر بنانے کی نیت سے جمع کئےگئے مال پر زکوۃ واجب ہے؟

  • 7521
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-01
  • مشاہدات : 452

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اپنی ماہانہ تنخواہ سے بچاکر کچھ رقم جمع کرتا رہتا ہوں،کیا اس مال پر زکوۃ واجب ہے ؟یاد رہے میں نے یہ مال گھربنانے اورحق مہر اداکرنے کی نیت سے جمع کیا ہے کیونکہ میں ان شاء اللہ عنقریب شادی کرنا چاہتا ہوں۔میں کئی سالوں سے یہ رقم ایک بینک میں جمع کررہا ہوں کیونکہ میرے پاس مال رکھنے کے لئے اورکوئی جگہ نہ تھی ،بینک میرے حساب میں نفع (یعنی سود) بھی شامل کرتا رہا لیکن میں نے بینک سے اپنی خالص جمع شدہ رقم نکلوالی اورنفع نہ لیا بلکہ اسے بینک ہی میں چھوڑ دیا جو کہ اب تک میرے حساب میں لکھا ہوا ہے کیا یہ رقم لے کر میں صدقہ کردوں یابینک میں ہی چھوڑ دوں یا کیا کروں؟کیا میں یہ رقم ایک ایسے گھر کو دےسکتا ہوں جو بے حد ضرورت مند ہے کیونکہ اس گھر میں کمانے والا کوئی نہیں یا یہ رقم کسی فلاحی ادارے کو دے سکتا ہوں؟رہنمائی فرماکر شکریہ کا موقعہ بخشیں!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شادی کرنے یا گھر بنانے کی نیت سے جومال جمع کیاجائےاس پربھی زکوۃ واجب ہےجب کہ مال نصاب کے بقدرہو اوراس پر ایک سال گزرجائے خواہ مال سونا ،چاندی ہویا کرنسی نوٹ ہوں۔وجوب زکوۃ پر دلالت کرنے والے دلائل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب مال نصاب کے مطابق ہو اورایک سال کی مدت گزر جائے توبغیر زکوۃ کسی استثناء کے واجب ہے!

سودی بینکوں میں مال رکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بھی گناہ اورسرکشی کے کام پر اعانت ہے ،اگر بےحد ناگزیرضرورت کی وجہ سے ان بینکوں میں اکاونٹ رکھا جائے تو اپنی رقم پر سود نہ لیا جائے،آپ کی طرف سے سود وصول کرنے کی شرط کے بغیر بینک نے اپنے طور پر آپ کے اکاونٹ میں جو سودی رقم جمع کر رکھی ہے اس کے بارے میں زیادہ راجح بات یہ ہے کہ اسے بینک سے لے کر فقیروں ،محتاجوں ،بیت الخلا ءیا مسلمانوں کے فائدہ کے اس طرح کے دیگر کاموں میں اسے صرف کردیا جائے کہ صورت اس سے بہتر ہے کہ اسے بینک ہی میں ان لوگوں کے لئے چھوڑا دیا جائے جو اسے برے یا کفریہ کاموں میں خرچ کریں گے،آپ نے یہ بہت اچھا کیا کہ اس بینک سے اپنی رقم نکلوالی ہے ۔اللہ تعالی ہمیں اورآپ کو ہدایت کی توفیق سے سرفراز فرمائے!

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 261

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ