سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(149) فریضہ زکوۃ کے بارے میں نصیحت اوریاد دہانی

  • 7514
  • تاریخ اشاعت : 2013-11-01
  • مشاہدات : 436

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
فریضہ زکوۃ کے بارے میں نصیحت اوریاد دہانی

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فریضہ زکوۃ کے بارے میں نصیحت اوریاد دہانی


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فریضہ زکوۃ کے بارے میں نصیحت اوریاد دہانی

اس مقالہ کے لکھنے سے مقصود فریضہ زکوۃ کے بارے نصیحت اوریاددہانی ہے کیونکہ بہت سے مسلمان اس میں سستی سے کام لے رہے ہیں اوروہ اس طرح زکوۃ ادا نہیں کرتے جس طرح شریعت کا حکم ہے حالانکہ زکوۃ ایک عظیم الشان فریضہ اوراسلام کے ان ارکان خمسہ میں سے ایک ہے اورجن کے بغیر اسلام کی عمارت استوارہوہی نہیں سکتی جیسا کہ نبی ﷺنے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ (۱) اس کی گواہی دینا کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اورحضرت محمدﷺاللہ کےرسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوٰۃاداکرنا (۴) رمضان کےروزےرکھنااور (۵) بیت اللہ کا حج کرنا۔’’

مسلمانوں پر زکوۃ کو فرض قراردینا کثرت فوائد اورغریب مسلمانوں کی ضرورت کے پیش نظر اسلام کے محاسن کا ایک اعلی نمونہ ہے اوراس بات کا ایک واضح ثبوت ہےکہ اسلام اپنے ماننے والوں کے حالا ت کی کس قدرنگہداشت کرتا ہے۔زکوۃ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے دولت مند اورفقیر کے درمیان الفت محبت کے رشتے مستحکم ہوتے ہیں کیونکہ انسانی نفس کا یہ خاصہ ہے کہ یہ اس کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے،جو اس سے احسان کا معاملہ کرے ۔زکوۃ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے خود زکوۃ دینے والے کے اپنے نفس کی صفائی اورتزکیہ ہوتا ہےجو بخل اورکنجوسی کے بعد پیدا ہوتا ہے،چنانچہ اس فائدہ کی طرف قرآن مجید نے بھی حسب ذیل آیات کریمہ میں اشارہ فرمایا ہے:

﴿١خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ‌هُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ (التوبۃ۹/۱۰۳)

‘‘ (اے پیغمبر!) ان کے اموال میں زکوۃ لیجئے کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) اور (باطن میں بھی) پاک کرتے ہو۔’’

زکوۃ مسلمان کو جودوکرم کا خوگر اورضرورت مندوں کے لئے ہمدرداورمحبت وشفقت کا عادی بناتی ہے،اس سے مال میں برکت ،فروانی اور اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ﴾ (سبا۳۴/۳۹)

‘‘اورتم جو چیز خرچ کرو گے،وہ (اللہ تمہیں) اس کا عوض دے گا اوروہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔’’

حدیث قدسی میں ہے ،نبی کریمﷺنے فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشادفرماتا ہے‘‘ابن آدم!توخرچ کر،ہم تجھ پر خرچ کریں گے۔’’علاوہ ازیں یہ فریضہ زکوۃ اوربھی بے شمار فوائد کا حامل ہے۔

جوشخص بخل سے کام لے یا زکوۃ اداکرنے میں کوتاہی کرے،اس کے لئے قرآن حکیم میں بہت شدید وعیدواردہوئی ہے ارشادباری تعالی ہے:

﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْ‌هُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٣٤﴾ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ‌ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُ‌هُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ﴾ (التوبۃ۹/۳۴۔۳۵)

‘‘اورجولوگ سونا اورچاندی جمع کرتے ہیں اوراس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں اس دن کے دردناک عذاب کی خبرسنادوجس دن وہ (مال) دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گاپھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیوں،پہلووں اورپیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اورکہا جائے گاکہ ) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کی تھا ،سوجو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔’’

ہروہ مال جس کی زکوۃ ادانہ کی جائے وہ‘‘ کنز ’’ہے اور اس کے مالک کو قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔یہ بات اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں نبی کریمﷺنے فرمایا کہ‘‘ہر وہ شخص جو سونے اورچاندی کا مالک ہے اوراس کی زکوۃ ادانہیں کرتا توآگ میں اس کے چوڑے تختے بنائے جائیں گے اورانہیں جہنم کی آگ میں خوب گرم کر کےان کے ساتھ اس کی پیشانی ،پہلواورپشت کو داغا جائے گا،جب یہ ٹھنڈے ہوجائیں گے توانہیں دوبارہ گرم کرلیا جائے گااوریہ سلسلہ سارادن جاری رہے گاجس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی اوریہاں تک کہ تمام بندگان الہی کا حساب کتاب ہوجائےگااوراس کے بعد وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھے گا۔’’اس طرح نبی ﷺنے اس حدیث میں اونٹ ،گائے اوربکری کے ان مالکوں کا بھی ذکر کیا ہے ،جوزکوۃ ادانہیں کرتے رہے اوران کے بارے میں بھی آپﷺنےیہ فرمایا ہےکہ انہیں بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ‘‘جس شخص کو اللہ تعالی مال دے اوروہ اس کی زکوۃ ادانہ کرےتو اس کے مال کو گنجے سانپ کے روپ میں ڈھال دیا جائے گا،جس کی آنکھ کے اوپر دوسیاہ نقطے ہوں گے اوریہ اسے دونوں باچھوں سے پکڑ لے گا اورکہے گا کہ میں تیر امال ہوں ،میں تیرا خزانہ ہوں،پھر نبی اکرمﷺنے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی:

﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرً‌ا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ‌ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ (آل عمران۳/۱۸۰)

‘‘وہ لوگ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے فضل سے مال عطافرمایا ہے اوروہ (اس میں) بخل کرتے ہیں،اس بخل کو وہ اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے،قیامت کےدن اس (مال) کا طوق بناکران کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔’’

زکوۃ چار قسم کے مال پر واجب ہے (۱) زمین سے پیدا ہونے والی فصلوں اورپھلوں پر ۰۲) چرنے والے پالتو چوپاوں پر (۳) سونے چاندی اور (۴) سامان تجارت پر،ان میں سے ہر قسم کا نصاب مقررہے کہ اس سے کم میں زکوۃ واجب نہیں ہے، فصلوں اورپھلوں کا نصاب پانچ وسق ہے اورایک وسق نبی کریمﷺکے ساٹھ صاع کے مساوی ہے ۔کھجور،کشمش ،گندم،چاول اورجو وغیرہ میں زکوۃ اس وقت واجب ہوگی جب ان کی مقدارتین سوصاع نبوی ہو اورایک صا ع معتدل آدمی کے ہاتھوں سے بھری ہوئی چارلپوں کے بقدرہوتا ہے،ان پر عشریعنی دسواں حصہ واجب ہے بشرطیکہ کھجوروں اورفصلوں وغیرہ کو بلا کلفت بارشوں،نہروں اورجاری چشموں وغیرہ سے سیراب کیا جاتا ہواوراگرانہیں محنت کر کے اورخرچہ کرکے کنووں اورڈیموں سے سیراب کیا جاتا ہو توپھر ان میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے جیسا کہ

 رسول اللہ ﷺکی صحیح حدیث سےیہ ثابت ہے۔

چرنے والے پالتوجانوروں مثلا اونٹ،گائے اوربھیڑ وغیرہ کی تفصیل رسول اللہﷺکی صحیح احادیث میں موجود ہے ۔اہل علم سے اس کی تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے۔اگراس وقت ہمارے پیش نظر اختصار نہ ہوتا تو اتمام فائدہ کے لئے ہم بھی یہاں اس کی تفصیل بیان کردیتے لیکن اختصار کی وجہ سے ہم اسے یہاں تفصیلا بیان نہیں کرسکتے۔

چاندی کا نصاب ایک سو مثقال ہے اور سعودی عرب کی کرنسی میں اس کی مقدار چھپن ریال ہے جب کہ سونے کا نصاب بیس مثقال ہے اورسعودی پیمانے میں اس کی مقدار۷/۳/۱۱ (اگنی) اشرفی ہے جب کہ گرام کے حساب سے ۹۲گرام ہے ،جو شخص سونے اورچاندی یا دونوں میں سے ایک کے نصاب کا مالک ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تواس میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے ،نفع اصل کے تابع ہوگا اوراس کے لئے الگ سے نیا شمار کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جیساکہ پالتوجانوروں کے دوران سال پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے اصل کے تابع ہوتے ہیں لہذا ان کے لئے بھی الگ سے نیا سال شمار کرنے کی ضرورت نہ ہوگی بشرطیکہ اصل جانور نصاب کے مطابق ہوں ۔

کرنسی نوٹ جن کے ساتھ آج کل لوگ لین دین کرتے ہیں،ان کا حکم بھی وہی ہے جو سونے اورچاندی کا ہے خواہ یہ درہم ہوں یا دینار،ڈالر ہوں یا ان کاکوئی اورنام رکھ لیا گیا ہوجب ان کی قیمت چاندی اورسونے کے نصاب کے مطابق ہوگی اوراس پر ایک سال گزر جائے گا تواس پر بھی زکوۃ واجب ہوگی ۔عورتوں کے سونے یا چاندی کے زیورات بھی نقدی میں شامل ہوں گے خصوصا جب وہ نصاب کے مطابق ہوں اوران پر ایک سال گزر جائے توان میں بھی زکوۃ واجب ہے خواہ انہیں استعمال کیا جاتا ہویا نہ کیا جاتا ہو۔علماء کے صحیح قول کے مطابق ان میں زکوۃ واجب ہے کیونکہ نبی کریمﷺکی اس حدیث کے الفاظ کے عموم کا یہی تقاضا ہے کہ‘‘ہر وہ سونے یا چاندی کا مالک جو زکوۃ ادانہیں کرتا توروزقیامت اس کے سونے اورچاندی کو چوڑے پتھروں کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔’’الخ۔ایک حدیث میں ہے کہ

نبی اکرمﷺنے ایک عورت کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے توفرمایا ‘‘کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟’’ اس نے کہا جی نہیں!فرمایا :‘‘کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ ان کے بجائے اللہ تعالی تجھے روز قیامت جہنم کی آگ کے کنگن پہنائے؟’’اس نے انہیں اتاردیا اورکہا کہ یہ اللہ اوراس کےرسول کے لئے ہیں (ابوداود،نسائی اور اس کی سند حسن ہے)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سونے کی پازیبیں پہنا کرتی تھی ،انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ !کیا یہ کنز ہیں؟آپؐ نے فرمایا‘‘جو (مال) نصاب کو پہنچ جائے اوراس کی زکوۃ اداکردی جائے تووہ کنز نہیں ہے۔’’اس مفہوم کی اوربھی (بہت سی) احادیث ہیں۔’’

جہاں تک سامان تجارت کا تعلق ہے تو سال کے آخر میں اس کی قیمت لگائی جائے اورکل قیمت کا چالیسواں حصہ بطورزکوۃ اداکردیا جائے خواہ اس کی قیمت ا س کے ثمن کے مثل ہویا اس سے کم وبیش کیونکہ حدیث سمرہ میں ہے کہ ‘‘رسول اللہ ﷺہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ ہم سامان تجارت کی بھی زکوۃ اداکریں۔’’ (ابوداود) اس میں اراضی ،عماتیں،گاڑیاں ،پانی کی موٹریں اورہروہ سامان داخل ہے جوبرائے تجارت ہو اوروہ عمارتیں جو برائے فروخت نہیں بلکہ برائےکرایہ ہوں توسال مکمل ہونے پر ان کے کرایہ پر زکوۃ ہوگی ،عمارتوں پر زکوۃ نہیں ہوگی کیونکہ وہ برائے فروخت نہیں ہیں۔۔اسی طرح وہ گاڑیا ں جو ٹیکسی کے طور پر چلائی جاتی ہوں ان میں بھی زکوۃ نہیں ہے کیونکہ ان کے مالکان نے انہیں استعمال کے لئے خریدا ہے ۔اگر ٹیکسی یا دیگر سامان کے مالکان کے پاس نصاب کے برابر نقدی ہو تو اس میں سال مکمل ہونے پر زکوۃ واجب ہوگی خواہ اس نقدی کو نفقہ کے لئے یا شادی کے لئے یا جائیداد خریدنے کے لئے یا قرض اداکرنے کے لئے یا دیگر مقاصد کے لئے جمع کیا گیا ہو کیونکہ اس طرح کے مال میں وجوب زکوۃ پردلالت کرنے والی ادلہ شرعیہ کے عموم کا یہی تقاضا ہے۔

علماءکے اقوال میں سے صحیح قول یہ ہے کہ قرض بھی زکوۃ سے مانع نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ تفصیل واضح ہے!اسی طرح جمہورعلماء کے نزدیک یتیموں اورمجنونوں (پاگلوں) کے مال میں بھی زکوۃ واجب ہے ،جب وہ (مال) نصاب کوپہنچ جائے اوراس پر سال گزر جائے توان کے وارثوں پر واجب ہوگا کہ سال گزرنے پر وہ ان کی طرف سے انکے مال سے زکوۃ ادا رکریں کیونکہ عموم ادلہ کا یہی تقاضا ہے مثلا حدیث میں ہے کہ نبی ﷺنے جب انہیں یمن بھیجا توفرمایا‘‘بےشک اللہ تعالی نے ان کے اموال پر زکوۃ کو فرض قراردیا ہے،جسے ان کے اغنیاء سے لے کر ان کے فقراء میں تقسیم کردیا جائے گا۔۔’’

زکوۃ ،اللہ تعالی کا حق ہے لہذا محض محبت کی خاطر کسی غیر مستحق کو زکوۃ دینا جائز نہیں اورنہ یہ جائز ہے کہ زکوۃ کو کسی نفع کے حصو ل یا نقصان کے ازالہ کے لئے استعمال کیا جائے اورنہ یہ جائز ہے کہ اسے مال بچانے یا مال سے مذمت دورکرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ہرمسلمان کے لئے یہ واجب ہے کہ وہ زکوۃ کو صرف مستحقین میں اس لئے تقسیم کرے کہ وہ اس کے اہل ہیں ،کسی اورغرض کے لئے تقسیم نہ کرے اورپھر زکوۃ کو خوشدلی کے ساتھ ،اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرے تاکہ وہ اپنے فرض سے عہدہ برآہوکر ،بےپایاں اجروثواب کا مستحق قرارپائے اوراللہ تعالی اسے اس خرچ کئے ہوئے مال کا نعم البدل بھی عطافرمائے۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مصارف زکوۃ کو وضاحت کرتے ہوئے ارشادفرمایاہے:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَ‌اءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّ‌قَابِ وَالْغَارِ‌مِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبۃ۹/۶۰)

‘‘ (صدقات (یعنی زکوۃ وخیرات) تو مفلسوں اورمحتاجوں اورکارکنان صدقات کا حق ہے اوران لوگوں کا جن کی تالیف قلب منظورہے اورغلاموں کے آزادکرانے میں اورمقروضوں کے قرض اداکرنے میں اوراللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہئے یہ حقوق) اللہ کی طرف سے مقررکردئیے گئے ہیں اوراللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے) ’’

اس آیت کریمہ کواللہ تعالی نے اپنے دوعظیم ناموں کے ساتھ جو ختم کیا ہے تواس میں اللہ تعالی کی طرف سے یہ اشارہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے حالات کو خوب جانتا ہے کہ ان میں سے کون زکوۃ کا مستحق ہےاورکون نہیں اس نے جو شریعت نازل فرمائی اورجو احکام مقررفرمائے ،ان میں وہ حکیم ہے ۔وہ تمام اشیاء کو ان کے اصل مقام پر ہی رکھتا ہے خواہ بعض لوگوں پر بعض اسرارحکمت مخفی رہیں۔وہ علیم وحکیم ہے اس لئے بندگان الہی کو اس کی شریعت پر مطمئن ہونا چاہئےاوراس کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کردینا چاہئے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اورتمام مسلمانوں کو دین میں فقاہت ،معاملہ میں صداقت ،اپنی رضا کے کاموں میں مسابقت اوراپنی ناراضگی کے اسباب سے عافیت عطافرمائے۔

انه سميع قريب’وصلي الله وسلم علي عبده ورسوله محمد وآله وصحبه

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ