سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(131) جب انسان کو شک ہوکہ نماز پڑھی ہے یا نہیں

  • 7496
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-31
  • مشاہدات : 327

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب نمازی کو یہ شک ہوکہ معلوم نہیں نماز پڑھی ہے یا نہیں تووہ کیا کرے؟نماز کے وقت میں شک ہو یا غیروقت میں توکیا کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب مسلمان کو کسی بھی فرض نماز کے بارے میں یہ شک ہو کہ معلوم نہیں اسے اداکیا ہے یا نہیں تواس پر واجب یہ ہے کہ اسے فورااداکرے کیونکہ اصل بقاء واجب ہے لہذا اسے فورااداکرنا چاہئے۔کیونکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے‘‘جوشخص نماز سے سوجائے یا اسے بھول جائے تووہ اسی وقت پڑھ لے جب اسے یاد آئے،بس اس کا یہی کفارہ ہے۔’’

مسلمان پر واجب ہےکہ وہ نماز کا بے حد اہتمام کرے،باجماعت اداکرنے کی کوشش کرے اورایسے کاموں میں مشغول نہ ہو جواسے نماز بھلادیں کیونکہ نماز اسلام کا ستون اورشہادتین کے بعد سب سے اہم فرض ہے۔ارشادباری تعالی ہے:

﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ (البقرۃ۲۳۸/۲)

‘‘ (مسلمانو!) سب نمازیں خصوصا درمیانی نماز (یعنی نمازعصر) پورے التزام کےساتھ اداکرتے رہواوراللہ کے سامنے ادب سےکھڑے رہاکرو۔’’

نیزفرمایا:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْ‌كَعُوا مَعَ الرَّ‌اكِعِينَ﴾ (البقرۃ۴۳/۲)

‘‘اورنمازپڑھاکرواورزکوٰۃدیاکرواور (اللہ کےسامنے) جھکنےوالوں کےساتھ جھکاکرو۔’’

نبی کریم ﷺنے فرمایا‘‘اصل معاملہ اسلام ہے،اس کاستون نماز اوراس کے کوہان کی بلندی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔’’نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ارشادفرمایا ہےکہ‘‘اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے (۱) یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورحضرت محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوۃ اداکرنا (۴) رمضان کے روزے رکھنااور۰۵) بیت اللہ کا حج کرنا۔’’

نماز کی عظمت ،شان اوراس کی محا فظت کے وجوب پر بہت سی آیات اوراحادیث دلالت کرتی ہیں۔

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 243

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ