سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) جنبی اورحیٖض ونفاس والی عورت کے لئے قرآن پڑھنا

  • 7439
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-30
  • مشاہدات : 1291

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم گرلز کالج کی طالبات ہیں،ہمارے نصاب میں قرآن مجید کے ایک پارہ کا حفظ بھی شامل ہے لیکن کبھی یوں بھی اتفاق ہوتا ہے کہ ہمارے امتحان کے دنوں میں ایام شروع ہوجاتے ہیں توسوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں کاغذ پر قرآن مجید کی سورہ لکھنا اوراسے حفظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماءکے صحیح قول کے مطابق حیض ونفاس والی عورت کے لئے قرآن مجید پڑھناجائز ہےکیونکہ ممانعت کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے لیکن ان حالتوں میں عورتوں کوچاہئے کہ وہ قرآن مجید کو ہاتھ نہ لگائیں بلکہ اسے پاک کپڑے وغیرہ کے ساتھ پکڑیں،اسی طرح بوقت ضرورت اس کاغذ کو بھی کپڑے سے پکڑیں جس پر قرآن مجید لکھا ہوا ہو۔

جنبی کو چاہئے کہ وہ غسل کئے بغیر قرآن مجید نہ پڑھے کیونکہ اس سلسلہ میں صحیح حدیث موجود ہے جس میں اس کی ممانعت ہے۔حیض ونفاس والی عورت کوجنبی پر قیا س کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ حیض ونفاس کی مدت لمبی ہوتی ہے جب کہ حالت جنابت کی مدت بہت مختصر ہوتی ہے اورجنابت کے بعد غسل کرنا ہروقت ممکن ہوتا ہے۔

واللہ ولی التوفیق۔

 

فتاویٰ ابن باز

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ