سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(67) مردوں کا وسیلہ اختیار کرنا شرک ہے

  • 7432
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-30
  • مشاہدات : 1100

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبروں اورمزاروں کی زیارت اوران میں مدفون لوگوں کا وسیلہ اختیارکرنے کے بارےمیں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر قبروں کی زیارت اس لئے ہو کہ مردوں سے مانگا جائے،ذبح اورنذرکے ساتھ ان کاتقرب حاص کیا جائے،ان سے استغاثہ کیا جائے اوراللہ تعالی کے سوا ان کو پکارا جائے تویہ شرک اکبر ہے۔اسی طرح لوگ ان شخصیتوں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں جنہیں وہ اولیاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں،خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ اوران کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ نفع ونقصان کے مالک ہیں یا یہ کہ ان کی دعاوں کو سنتے ہیں یا بیماروں کو شفا دیتے ہیں،تویہ سب شرک اکبر۔والعیاذباللہ!

یہ اسی طرح کا عمل ہے جس طرح مشرکین کا لات ومنات ،اپنے دیگر بتوں اوردوسرے معبودوں کے ساتھ عمل تھا،لہذا مسلمان ممالک کے حکمرانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ اس عمل کی تردید کریں،لوگوں کو ان فرائض اورواجبات کی تعلیم دیں جو شریعت کی مقررکردہ ہیں ۔لوگوں کو اس شرک سے روکیں،ان قبوں کو گرا کر پیوند خاک کردیں جو قبروں پربنائےگئے ہیں کیونکہ یہ باعث فتنہ اوراسباب شرک میں سے ہیں نیز ان کا بنانا حرام ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا ہےکہ قبروں پر عمارتیں بنائی جائیں۔ قبروں پر مسجدیں بنانے والوں پر آپﷺنے لعنت فرمائی ہے۔لہذا قبر پر کوئی عمارت یامسجد بنانا جائز نہیں ہے بلکہ واجب یہ ہے کہ قبریں ظاہرہوں اوران پر کوئی عمارت وغیرہ نہ ہو جس طرح کہ مدینہ منورہ اورہراسلامی ملک میں مسلمانوں کی وہ قبریں تھیں جو بدعات وخواہشات سےمتاثر نہ ہوئیں کہ وہاں مردوں کو پکاراجاتاہے نہ ان سے اورنہ درختوں سے ،پتھروں ،جنوں یا فرشتوں سے استغاثہ کیا جاتا ہے اورنہ اللہ تعالی کے سوا ان کی عبادت کی جاتی ہےکہ ان سے مدد جانگی جاتی ہو یا فریاد کی جاتی ہویا بیماروں کے لئے شفاطلب کی جاتی ہویا غائب کی واپسی کے لئے دعاکی جاتی ہو،یا جنت میں داخلہ اورجہنم سےپناہ کی دعاکی جاتی ہوکیونکہ یہ سب باتیں شرک ہیں۔اسی طرح غیر اللہ کے نا م پر ذبح کرنابھی شرک ہے کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ لَا شَرِ‌يكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْ‌تُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ (الانعام۶/۱۶۲۔۱۶۳)

‘‘ (اے نبی!) کہہ دو کہ میری نماز،میری قربانی،میراجینااورمیرا مرناسب اللہ رب العالمین ہی کے لئےہے جس کا کوئی شریک نہیں اورمجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اورمیں سب سے اول فرماں بردارہوں۔’’

اورفرمایا:

﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ‌ ﴿١﴾ فَصَلِّ لِرَ‌بِّكَ وَانْحَرْ‌﴾ (الکوثر۱۰۸/۱۔۲)

‘‘ (اے محمد!ﷺ) ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔’’

اورنبی ﷺکا فرمان ہے کہ ‘‘اللہ تعالی اس شخص پر لعنت فرمائے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرتا ہے۔’’علماءکرام پرواجب ہے کہ یہ باتیں یاد دلائیں اورجاہلوں کو ان کی تعلیم دیں،ان کی رہنمائی فرمائیں۔حکمرانوں پر بھی یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم کو نافذ کریں،اس شرکیہ عمل سے روکیں،عوام کے اورشرک کے درمیان دیوار بن کر حائل ہوجائیں ،جوباز نہ آئے اسے ادب سکھائیں اوراس شرک عظیم سے توبہ کرائیں ،یہ علما،حکام اورامراء پر واجب ہے۔ہم سب کے لئے اللہ تعالی سے ہدایت اورتوفیق کی دعاءمانگتے ہیں۔

 

فتاویٰ ابن باز

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ