سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(66) جادوگروں اورشعبدہ بازوں سے سوالات پوچھنے کا حکم

  • 7431
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-30
  • مشاہدات : 869

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ریاض سے برادرصالح علوی بشرنے اپنے سوال میں یہ پوچھا ہے کہ یمن کے بعض علاقوں میں کچھ لوگ ہیں جو سادات کہلاتے ہیں اوریہ لوگ شعبدہ باز ہیں اوردین کے منافی کئی کام بھی کرتے ہیں مثلا یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ لوگوں کو پیچیدہ اورنازک بیماریوں سے شفا بخشنے کی قدرت رکھتے ہیں اوراس کی دلیل کے طور پر وہ اپنے جسم میں خنجر پیوست لیتے ہیں یا اپنی زبان کو کاٹ کر دوبارہ جوڑ لیتے ہیں اوراس سے انہیں کوئی ضررنہیں پہنچتا۔ان میں سے کچھ لوگ نماز پڑھتے ہیں اورکچھ نماز بھی نہیں پڑھتے ۔خود تو دوسرے خاندانوں میں شادی کرلیتے ہیں لیکن اپنے خاندان کی عورت کا دوسرے خاندان کے کسی مرد کو رشتہ نہیں دیتے ۔مریضوں کے لئے دعاکرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں کہ اے اللہ !اےفلاں !۔۔۔اپنے آباواجدادمیں سے کسی کا نام لیتے ہوئے ۔۔۔زمانہ قدیم میں لوگ ان کی تعظیم کرتے ،انہیں غیر معمولی انسان سمجھتے اوریہ کہتے تھے کہ یہ مقربین بارگاہ الہی ہیں بلکہ وہ انہیں رجال اللہ کے نام سے موسوم کرتے تھے ،البتہ اب لوگوں کی رائے ان کے بارے میں مختلف ہے خاص طورپر نوجوان طبقہ اورطالب علم ان کے خلاف ہیں جبکہ معمر لوگ اورغیر تعلیم یافتہ لوگ ابھی تک ان کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں ۔امید ہے آپ اس موضوع پر روشنی ڈال کر حقیقت حال کو واضح فرمائیں گے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ریاض سے برادرصالح علوی بشرنے اپنے سوال میں یہ پوچھا ہے کہ یمن کے بعض علاقوں میں کچھ لوگ ہیں جو سادات کہلاتے ہیں اوریہ لوگ شعبدہ باز ہیں اوردین کے منافی کئی کام بھی کرتے ہیں مثلا یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ لوگوں کو پیچیدہ اورنازک بیماریوں سے شفا بخشنے کی قدرت رکھتے ہیں اوراس کی دلیل کے طور پر وہ اپنے جسم میں خنجر پیوست لیتے ہیں یا اپنی زبان کو کاٹ کر دوبارہ جوڑ لیتے ہیں اوراس سے انہیں کوئی ضررنہیں پہنچتا۔ان میں سے کچھ لوگ نماز پڑھتے ہیں اورکچھ نماز بھی نہیں پڑھتے ۔خود تو دوسرے خاندانوں میں شادی کرلیتے ہیں لیکن اپنے خاندان کی عورت کا دوسرے خاندان کے کسی مرد کو رشتہ نہیں دیتے ۔مریضوں کے لئے دعاکرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں کہ اے اللہ !اےفلاں !۔۔۔اپنے آباواجدادمیں سے کسی کا نام لیتے ہوئے ۔۔۔زمانہ قدیم میں لوگ ان کی تعظیم کرتے ،انہیں غیر معمولی انسان سمجھتے اوریہ کہتے تھے کہ یہ مقربین بارگاہ الہی ہیں بلکہ وہ انہیں رجال اللہ کے نام سے موسوم کرتے تھے ،البتہ اب لوگوں کی رائے ان کے بارے میں مختلف ہے خاص طورپر نوجوان طبقہ اورطالب علم ان کے خلاف ہیں جبکہ معمر لوگ اورغیر تعلیم یافتہ لوگ ابھی تک ان کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں ۔امید ہے آپ اس موضوع پر روشنی ڈال کر حقیقت حال کو واضح فرمائیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ اوران جیسے دیگر لوگ درحقیقت ان صوفیوں میں سے ہیں جن کے اعمال منکر اورتصرفات باطل ہیں۔ان کا شماران نجومیوں میں بھی ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ‘‘جو شخص کسی نجومی کے پاس جاکرکچھ پوچھے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔’’ کیونکہ یہ لوگ علم غیب کا دعوی کرتے اور جنات سے خدمت لیتے ہیں لہذااس حدیث شریف کے پیش نظر ان کے پاس جانااوران سے کچھ پوچھناجائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریمﷺکا یہ بھی ارشادہے کہ‘‘جوکوئی کسی نجومی کے پاس جائےاوراس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے دین وشریعت کے ساتھ کفرکیا جسےاللہ تعالی نے حضرت محمد (ﷺ) پر نازل فرمایاہے۔’’

ان کا غیراللہ کو پکارنا اوراس سے استغاثہ کرنا یا یہ گمان کرنا کہ ان کے اسلاف اورآباواجداداس کا ئنات میں تصرف کرتے یا مریضوں کو شفادیتے ہیں اورفوت یا غائب ہونے کے باوجود ان کی دعا کو سنتے ہیں تویہ سب اللہ تعالی کی ذات گرامی کے ساتھ کفر ہے اوریہ سب مشرکین کے اعمال ہیں لہذا واجب ہے کہ ان کا اوران کے پاس جانے،ان سے سوال پوچھنےاوران کی تصدیق کرنے سے انکار کردیاجائے کیونکہ ایک طرف ان کےاعمال نجومیوں اورکاہنوں جیسے ہیں تودوسری طرف ان مشرکوں جیسے ہیں جو غیراللہ کے پجاری ہیں،غیراللہ سے استغاثہ کرنے والے ہیں اورغیراللہ یعنی جنات،مردوں اوران لوگوں سے مددمانگتے ہیں جن کی طرف یہ منسوب ہیں اورجن کے بارے میں ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ان کے آباواجداداوراسلاف ہیں یا یہ ایسے ہی دیگر لوگوں کو پکارتے ہیں جن کے بارےمیں ان کا گمان یہ ہے کہ انہیں ولایت وکرامت حاصل ہے۔یہ سب اعمال شعبدہ بازی،کہانت اورنجومیت ہیں اورشریعت مطہرہ میں ان کی تردید کی گئی ہے۔باقی رہی یہ بات کہ ان لوگوں سے بعض منکر تصرفات کا ظہورہوتا ہے مثلا اپنے جسم میں خنجر پیوست کرلینا یا اپنی زبان کو کاٹ دیناتویہ سب دجل وفریب اوراس جادو کی قسموں میں سے ہے جسے نصوص کتاب وسنت نے حرام قراردیا اوراس سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے لہذا اس قسم کی باتوں سے ایک عقل مند آدمی کو فریب خوردہ نہیں ہونا چاہئےکیونکہ یہ اس قسم کی باتیں ہیں جن کا اللہ تعالی نے فرعون کے زمانہ کے جادوگروں کے حوالہ سے ذکر فرمایا ہے کہ:

﴿يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِ‌هِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ﴾ (طہ۶۶/۲۰)

‘‘موسی (علیہ السلام) کے خیال میں وہ ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان میں ادھرادھر) دوڑرہی ہیں۔’’

یہ لوگ جن کا سوال میں ذکر کیا گیا ہ انہوں نے جادو،شعبدہ بازی اورکہانت کو یکجاکرلیاہے۔نجوم،شرک اکبر،غیراللہ سے استعانت واستغاثہ اوردعوی علم غیب اورکائنا ت میں تصرف کے دعوی کو بھی یکجاکرلیا ہے۔یہ سب شرک اکبر،کھلم کھلا کفراورشعبدہ بازی کے وہ اعمال ہیں جنہیں اللہ تعالی نے حرام قراردیا ہے۔نیز ان باتوں میں اس علم غیب کادعوی بھی ہے جسے بجزاللہ سبحانہ وتعالی کے اورکوئی نہیں جانتا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ﴾ (النمل۶۵/۲۷)

‘‘کہہ دو کہ جولوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کے سوا غیب نہیں جانتے۔’’

ان سب مسلمانوں پر جوان کے حالات سےآگاہ ہیں،یہ واجب ہے کہ وہ ان کی تردید کریں،ان کے سوءتصرف کو واضح کریں اوربتائیں کہ یہ ایک منکر امر ہے۔ان کے یہ اعمال شرک اورکفر ہیں کہ ان میں شعبدہ بازی ،کہانت اورنجومیت ہے ،نیز دعوی علم غیب بھی ہے اوریہ سب ضلالت ،کفر اورباطل کی قسمیں ہیں۔ان سے اوران کاارتکاب کرنے والوں سے بچنا واجب ہے۔اسی طرح یہ بات کہ دوسرے خاندانوں سے رشتے تولیتے ہیں لیکن ان کورشتے دیتے نہیں،یہ بھی جہالت وضلالت کی بات ہے،شریعت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ،ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ‌ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ‌فُوا ۚ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌﴾ (الحجرات۱۳/۳۹)

‘‘لوگوہم نے تم کو ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اورتمہاری قومیں اورقبیلے بنائے تاکہ تم کوایک دوسرے کو شناخت کرو (اور) اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والاوہ ہے جوزیادہ پرہیزگارہے۔بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردارہے۔’’

اگر ان کاتعلق سادات یا بنی ہاشم سے ہوتوپھر بھی ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنی بیٹیوں کے رشتے دوسرےخاندانوں کے لئے حرام قراردیں،یہ بھی ایک منکر امر اوررسول اللہﷺکے اس عمل کےمخالف ہے کہ آپﷺنےاپنی پھوپھی زادحضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سےکردیا تھا حالانکہ یہ اسدیہ ہیں۔اسی طرح آپﷺنےفاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا نکاح

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سےکردیا تھا حالانکہ یہ قریشی ہیں،اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمررضی اللہ عنہ سے کردیا تھا حالانکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا تعلق بنوہاشم سے نہیں بلکہ بنوعدی سے ہے ۔الغرض اس طرح کے بے شمارواقعات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل اورسلف کےعمل کے مخالف ہے،لہذا واجب ہے کہ انہیں نصیحت کی جائے،اللہ تعالی کے حکم سے انہیں ڈرایا جائے اورکہا جائے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالی کی بارہ گاہ میں ان تمام امورسےتوبہ کریں جو اس کی شریعت مطہرہ کی خلاف ہیں۔اللہ تعالی ہمیں اوران سب کو ہدایت سے نوازے!

 

فتاویٰ ابن باز

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ