سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(64) آیت﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا﴾میں ورود سے کیا مراد ہے

  • 7429
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-29
  • مشاہدات : 616

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سورہ مریم کی آیت۷۲،۷۱اس طرح ہے:
﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَ‌بِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ‌ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ (مریم۱۹/۷۱۔۷۲)
‘‘اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا،یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ضالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔’’
میں اس آیت کریمہ،خاص طور پر‘‘ورود’’کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں،میں نے ابن رجب حنبلیؒ کی کتاب ‘‘التخويف من النار’’میں پڑھا ہے کہ آئمہ کا‘‘ورود’’کےمعنی کی تفسیر میں اختلاف ہے۔تو سوال یہ ہے کیا اس کے معنی جہنم کی آگ میں داخل ہونے کے ہیں کہ ایک بار تو مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو جہنم کی آگ سے نجات عطافرمادےگایااس سے مقصود اس پل صراط پر سے گزرنا ہے جو تلوار کی دھار سے باریک ہے اور جس سے پہلا گروہ بجلی کی طرح،دوسرا گروہ ہوا کی طرح،تیسرا جروہ عمدہ گھوڑے کی طرح،چوتھا گروہ اعلیٰ درجہ کے اونت اور دیگر جانوروں کی رفتار سے گزر جائے گا اور فرشتے اس وقت کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ!سلامت رکھنا،اے اللہ!سلامت رکھنا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سورہ مریم کی آیت۷۲،۷۱اس طرح ہے:

﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَ‌بِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ‌ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ (مریم۱۹/۷۱۔۷۲)

‘‘اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا،یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ضالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔’’

میں اس آیت کریمہ،خاص طور پر‘‘ورود’’کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں،میں نے ابن رجب حنبلیؒ کی کتاب ‘‘التخويف من النار’’میں پڑھا ہے کہ آئمہ کا‘‘ورود’’کےمعنی کی تفسیر میں اختلاف ہے۔تو سوال یہ ہے کیا اس کے معنی جہنم کی آگ میں داخل ہونے کے ہیں کہ ایک بار تو مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو جہنم کی آگ سے نجات عطافرمادےگایااس سے مقصود اس پل صراط پر سے گزرنا ہے جو تلوار کی دھار سے باریک ہے اور جس سے پہلا گروہ بجلی کی طرح،دوسرا گروہ ہوا کی طرح،تیسرا جروہ عمدہ گھوڑے کی طرح،چوتھا گروہ اعلیٰ درجہ کے اونت اور دیگر جانوروں کی رفتار سے گزر جائے گا اور فرشتے اس وقت کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ!سلامت رکھنا،اے اللہ!سلامت رکھنا؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺکی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اس ورود سے مراد اس پل صراط سے گزرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی طھت پر نصب فرمایا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو جہنم سے بچائے۔۔۔اور جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزر جائیں گے۔

 

فتاویٰ ابن باز

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ