سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(78) قرآنی اورغیرقرآنی تعویذ کاکیا حکم ہے؟

  • 7408
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-27
  • مشاہدات : 2165

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآنی اورغیرقرآنی تعویذ کاکیا  حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیرقرآنی تعویذاگر ہڈیوں ،طلسموں ،گھونگوں اوربیڑیئے کے بالوں وغیرہ کی صورت میں ہوں تو وہ منکر اورحرام ہیں اوران کی حرمت نص سے ثابت ہےلہذا کسی بچے یا بڑے کے لئے تعویذوں کا استعمال جائز نہیں ہے،چنانچہ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ:

((من تعلق تميمة فلااتم الله له’ومن تعلق ودعة فلا ودع الله له))

‘‘جو شخص تعویذ لٹکائے ،اللہ تعالی اس کی خواہش کو پورا نہ فرمائے اورجو سیپی وغیرہ لٹکائے ،اللہ تعالی اسے آرام نہ دے۔’’

اورایک روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ :

((من تعلق تميمة فقد اشرك))

‘‘جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔’’

اگر تعویذ کا تعلق قرآن مجید یا معروف اورپاکیزہ دعاوں سے ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے ،بعض نے اسے جائز قراردیا ہے ،سلف کی ایک جماعت سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اسے انہوں نے مریض پر پڑھ کر دم کرنے کی طرح قراردیا ہے اوردوسرا قول یہ ہے کہ یہ بھی جائز نہیں ،عبداللہ بن مسعوداورحذیفہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سلف وخلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے کہ تعویذ لٹکانا جائز نہیں خواہ وہ قرآنی الفا ظ پر مشتمل ہوتاکہ سدذریعہ ہو ،مادہ شرک کی بیخ کنی ہو اورعموم کے مطابق عمل ہو کیونکہ وہ احادیث جن میں تعویذ وں کی ممانعت ہے،وہ عام ہیں اوران میں کسی استثنائی صورت کا ذکر نہیں ہے ۔لہذا واجب یہ ہے کہ عموم کے مطابق عمل کیا جائے اوروہ یہ کہ کسی قسم  کے تعویذ کا استعمال بھی جائز نہیں کیونکہ قرآنی تعویذوں کا استعمال پھر غیرقرآنی تعویذوں تک پہنچادیتا ہے اورمعاملہ خلط ملط ہوجاتا ہے ۔لہذا واجب یہ ہے کہ تمام قسم کے تعویذوں کے استعمال کی ممانعت ہو اور واضح دلیل کی وجہ سے یہی موقف درست ہے۔اگر ہم قرآن اورپاکیزہ دعاوں پر مشتمل تعویذ کو جائز قراردے دیں توپھر اس سے دروازہ کھل جائے گااورہر شخص جیسا چاہے گا تعویذاستعمال کرے گا، اگرمنع کیا جائے تو وہ کہے گا کہ  یہ تو قرآن یا پاکیزہ دعاوں پر مشتمل ہے ،اس سے دروازہ کھل جائے گا،شگاف بڑا ہوجائے گااورہرطرح کے تعویذوں کا استعمال ہونے لگے گا۔

تعویذوں کی  ممانعت کی ایک تیسری وجہ بھی ہے اوروہ یہ کہ آدمی ان کے ساتھ بیت الخلاء اوردیگر گندی جگہوں پر بھی چلا جاتا ہے،جب کہ یہ جائز نہیں کہ انسان اللہ تعالی کے پاک کلام کو لے کر بیت الخلاء یاکسی گندی جگہ میں جائے۔


فتاوی مکیہ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ