سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(60) جو شخص سوشلزم وکمیونزم کے نفاذ کامطالبہ کرے

  • 7390
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-28
  • مشاہدات : 849

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص سوشلزم وکمیونزم کے نفاذ کامطالبہ کرے


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص سوشلزم وکمیونزم کے نفاذ کامطالبہ کرے

الحمدلله وحده ، والصلوة  والسلام علي من لانبي بعده، وعلي آله وصحبه _ امابعد:

میرے پاس بعض پاکستانی بھائیوں کی طرف سے ایک سوال آیا ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے:ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے جوسوشلزم وکمیونزم کے نفاذ کامطالبہ کرتےاوراسلامی نظام حکومت کی مخالفت کرتے ہیں نیز ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے جو اس مقصد کے حصول کی خاطر ان سے تعاون کریں،اسلامی نظام حکومت کا مطالبہ کرنے والوں کی مذمت کریں اوران پر الزام تراشی اورافتراءپردازی کریں،کی ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی مسجدوں میں ائمہ  وخطباء مقررکرنا جائز ہے؟

الحمدلله وحده ، والصلوة  والسلام علي رسول الله، وعلي آله وصحبه ومن اهتدي بهداه

لاريب!مسلمان اماموں اورحکمرانوں پریہ واجب ہےکہ وہ اپنے تمام امورومعاملات میں اسلامی شریعت کو نافذ کریں،اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف جنگ کریں ،اس مسئلہ پر تمام علماء اسلام کا اتفاق ہے اور بحمد للہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ،اس سلسلہ میں کتاب وسنت کے دلائل بے شمار ہیں جو اہل علم کو معلوم ہیں،مثلا اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

﴿فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء۶۵/۴)

‘‘تمہارے پروردگار کی قسم یہ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔’’

اورفرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۵۹/۴)

‘‘مومنو!اللہ اوراس کے رسول کی فرماں برداری کرو اورجو تم میں سے صاحب حکومت ہیں،ان کی بھی اوراگرکسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہوجائے تو اگر اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو،یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کا مآل(انجام)بھی اچھا ہے۔’’

نیزفرمایا: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۴۲/۱۰)

‘‘اورتم جس بات میں اختلاف کرتے ہواس کا فیصلہ اللہ  کی طر ف (سے ہوگا)’’

نیزفرمایا:

﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (المائدۃ۵۰/۵)

‘‘کیا زمانۂ جاہلیت کے حکم(قانون)کے خواش مند ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں،ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے اچھا حکم(قانون)کس کا ہے؟’’

اورارشاد ہے:

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ (المائدہ۵/۴۷)

‘‘اور  جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا توایسے لوگ نافرمان ہیں۔’’

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں۔علماء کا اجماع ہے کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ غیراللہ کا حکم اللہ کے حکم سے اچھا ہے یا کسی غیر کا طریقہ رسول اللہ ﷺکے طریقہ سے اچھا ہے تووہ کافر ہے،اسی طرح اس بات پر بھی علماء کا اجماع ہے کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ کسی کےلئے حضرت محمدﷺکی شریعت سے خروج جائز ہے یا کسی اورشریعت کے مطابق حکم دینا جائز ہے تووہ کافر اورگمراہ ہے۔قرآن مجید کے مذکورہ بالا دلائل اوراجماع اہل علم کی روشنی میں سائل اوردیگر لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جو لوگ سوشلزم ،کمیونزم یا دیگر مخالف اسلام مذاہب باطلہ کی دعوت دیتے ہیں ،وہ کافر اورگمراہ ہیں ،یہ یہود ونصری سے بھی بڑے کافر ہیں کیونکہ یہ ایسے ملحد لوگ ہیں کہ ان کا اللہ تعالی اوریوم آخرت پر ایمان ہی نہیں ہے ،ایسے لوگوں میں کسی کو مسلمانوں کی کسی مسجد میں امام یا خطیب مقررکرنا جائز نہیں اورنہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے، جو شخص ان کی ضلالت میں مددگارثابت ہو ،ان کی دعوت کو اچھا سمجھے اور داعیان اسلام کی مذمت کرےاوران پر الزام ترشی کرے تووہ بھی کافر اورگمراہ ہے اورتائید حمایت کرنے کی وجہ سے اس کا حکم بھی وہی ہے جو اس ملحد گروہ کا ہے ۔علماء اسلام کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جو شخص اس کے لئے کوشاں ہو کہ کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہواور اس سلسلہ میں وہ ان کی کسی بھی نوعیت کی مددکرے تووہ انہی کی طرح کا شمار ہوگا۔جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نےارشاد فرمایاہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ (المائدہ۵/۵۱)

‘‘اے ایمان والو!یہود اورنصاری کو دوست نہ بناویہ ایک دوسرتے کے دوست ہیں اورجوشخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گاوہ بھی انہی میں سے ہوگا۔بے شک اللہ تعالی ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔’’

اورفرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ‌ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ (التوبۃ۹/۲۳)

‘‘اے ایمان والو!اگرتمہارے(ماں)باپ اور(بہن)بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کریں توان سے دوستی نہ رکھو اورجو ان سے دوستی رکھیں گے،وہ ظالم ہیں۔’’

امیدہے جوکچھ ہم نے ذکر کیا یہ ایک طالب حق کے لئے موجب کفایت وقناعت  ہے،اللہ تعالی حق بات ارشادفرماتاہےاورراہ راست کی طرف رہنمائی فرماتا ہے،ہم اللہ تعالی کی بارگاہ قدس میں دست  بدعا ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کو درست فرمادے ،انہیں حق پر جمع ہونے کی توفیق عطافرمادے،دشمنان اسلام کو ناکام ونامرادبنادے،ان کے شیرازہ کو منتشرکردے،ان کی جماعت کو تتربترکردے اورمسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے،بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وصلي الله علي عبده ورسوله نبينا محمد واآله وصحبه

سوال: ان مسلمانوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے،جو خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس قرآن کریم اورسنت مطہرہ موجود ہے؟

جواب: اس قسم کے لوگوں کے بارے میں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتے ہیں اورپھر غیر منزل من اللہ سے فیصلے کراتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت کافی نہیں ہے اورعصر حاضر میں وہ اس قابل نہیں کہ اس کے مطابق حکم دیاجائے ،میری رائے وہی ہے جو اللہ تعالی نے اپنے حسب ذیل ارشاد میں فرمائی ہے :

﴿فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء۶۵/۴)

‘‘تمہارے پروردگار کی قسم یہ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔’’

نیز فرمایا:

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُ‌ونَ﴾ (المائدہ۵/۴۴)

‘‘اورجو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دےگا توایسے لوگ کافر ہیں۔’’

جو لوگ اللہ تعالی کی شریعت کو چھوڑ کر غیر شریعت سے فیصلہ کراتے ،اسےجائز سمجھتے اورشریعت الہی کی روشنی میں فیصلہ کی نسبت اسے زیادہ بہترسمجھتے ہیں توبلا شک وشبہ وہ دائرہ اسلام سے خارج اورکافر ،ظالم اورفاسق ہیں جیساکہ سابقہ دوآیتوں اوردیگر آیات سے ثابت ہے اورارشاد باری تعالی ہے :

﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (المائدہ۵/۵۰)

‘‘کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم پر خواہش مند ہیں اوروہ جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ سے اچھا حکم کس کا ہے؟’’

والله الموفق

تنبیہ

الحمدلله وحده ، والصلوة  والسلام علي من لانبي بعده، وعلي آله وصحبه _ امابعد:

میں نے مجلہ‘‘اقراء’’ شمارہ نمبر۶۰۴ مجریہ ۲۲ جمادی الاولی ۱۴۰۷ ہجری میں ارسطو اورارسطوقان کے درمیان گفتگوکےزیر عنوان ایک مقالہ دیکھا جس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ‘‘طبیعت غلطی کرتی ہے اورانسان اس کی تصیح کردیتا ہے۔’’حالانکہ یہ بات ایک منکر عظیم اورکفر صریح ہے۔یادرہے فلاسفہ کا اللہ رب ذوالجلال کی ذات گرامی پر ایمان نہیں ہے ،جو الہ،خالق اورمدبرہے،جسے کمال مطلق حاصل ہے ،وہ جو کام کرتا ہے وہ بھی اورجو نہیں کرتا وہ  بھی مبنی برحکمت ہے،وہ اپنے افعال اوراقوال میں  ہرقسم کی غلطی سے پاک ہے ،فلاسفہ کا چونکہ خالق عظیم اوراپنے اسماء وصفات میں کامل اللہ تعالی پر ایمان نہیں ہے ،اس لئے وہ حوادث وواقعات کو طبیعت کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کی جہا لت اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیما ت سے بعد (دوری)کا نتیجہ ہے لہذ ا ان کی جہالت اورعدم ایمان کی وجہ سے الہیات اورشرائع سے متعلق ان کے اقوال سے فریب خوردہ نہیں ہونا چاہئے ۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اس دنیا میں بیماریاں،حوادث وواقعات اورجو دیگر حالات رونما ہوتے ہیں ،وہ سب اللہ تعالی کی مرضی ومشیت سے رونما ہوتے ہیں اور ان کے رونما ہونے میں  زبردست حکمت ومصلحت بھی ہوتی ہے خواہ مخلوق کو اس سے آگاہی نہ بھی ہو،جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّ رَ‌بَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ﴾ (الانعام۶/۸۳)

‘‘بے شک تمہار ا پروردگار حکمت والا(اورسب کچھ)جاننے والا ہے۔’’

نیزفرمایا: ﴿إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ ( النساء۴/۲۴)

‘‘یقینااللہ سب کچھ جاننے والا(اور)حکمت والاہے۔’’

مزید فرمایا: ﴿ لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ (الانبیاء۲۱/۲۳)

‘‘وہ جوکام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور(جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی)ان سے پرسش  ہوگی۔’’

اوریہ اس کے کمال حکمت وعلم کا تقاضا ہے ،ظالموں ،کافروں اورجاہلوں کی باتوں سے وہ پاک ہے اوروہ بہت ہی بلندو بالا اورارفع واعلی ہے۔اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے لئے  نصیحت چونکہ واجب ہے اوراسی واجب سے عہدہ برا ہونے کے لئے یہ سطور لکھی گئی ہیں۔

والله ولي التعوفيق’وهو حسبناونعم الوكيل وصلي الله علي نبينا محمد وعلي آله واصحابه

عبدالعزیزبن عبداللہ بن باز

ڈائریکٹرجنرل

برائے ادارات بحوث علمیہ وافتاءودعوۃوارشاد


فتاوی مکیہ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ