سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) آپ ہمارے ان اماموں اور مؤذن بھائیوں کو کیا نصیحت فرماتے ہیں..الخ

  • 7369
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-28
  • مشاہدات : 376

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ ہمارے ان اماموں اور مؤذن بھائیوں کو کیا نصیحت فرماتے ہیں جو وزارۃ الحج والاوقاف اور جماعت مسجد کی موافقت کے بغیر کسی کو اپنا قائم مقام بنا کر سفر  ([1]) پر جاتے ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ بسا اوقات ایسے شخص کے ذمہ یہ کام سونپا جاتا ہے کہ جو اس کا اہل نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض ملازمین و کارکنان حکومت بغیر اجازت کے اپنے ذمے کا کام چھوڑ کر طلب ثواب اور نماز کی فضیلت کے حصول اور عمرہ کی غرض سے چلے جاتے ہیں؟


 (18) سائل کی مراد سفر سے عمرہ کا سفر ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ ان کا اپنے کام پر موجود رہنا عمرہ کے لیے جانے سے افضل ہے کیونکہ وہ اپنے کام پر باقی رہ کر اپنے اوپر واجب ذمہ داری کو نبھائیں گے جس میں کوتاہی کرنے پر گناہ لازم آئے گا اور عمرے کے لیے جانا ایک نفلی عبادت ہے جس کے چھوڑنے پر ان پر کوئی عتاب نہیں۔

لہٰذا ان تمام بھائیوں سے ہماری ناصحانہ گزارش ہے جنہوں نے یہ کام صرف طلب ثواب کے لئے کیا ہے کہ ثواب و اجر آپ کی اپنی ملازمت اور اعمال واجبہ کی ادائیگی میں ہے اور آپ کا اپنے واجب کو چھوڑ کر عمرہ کے لئے جانا ثواب کے مقابلے میں گناہ سے زیادہ قریب ہے۔

 

فتاوی مکیہ

صفحہ 29

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ