سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(54) رفع الیدین کا مسئلہ

  • 735
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-21
  • مشاہدات : 1089

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حنفی لوگ رفع یدین کی ابتداء آغاز اسلام سے بتاتے ہیں کہ مسلمان کفار کی طرح بغلوں میں بت لے کرنماز پڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہٹانے کےلیے رفع یدین کاحکم دے دیا۔کیا یہ بات درست ہے ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رفع یدین کی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

 بیہقی میں رفع یدین کی حدیث ذکر کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔

«فمازالت تلک صلوته حتی لقی الله»

یعنی آخری دم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز رہی ہے ۔

اس سے معلوم ہواکہ آپ ہمیشہ رفع یدین کرتے تھے۔

بخاری میں حدیث ہے صلوا کمارايتمونی اصلی۔ یعنی آپ نے فرمایا جیسے مجھے نماز پڑھتا دیکھتے ہو۔ اسی طرح نمازپڑھو تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ تم ہمیشہ رفع یدین کرو۔ کیونکہ آپ تاوفات رفع یدین کرتے رہے .......یہ سب بے اصل اور بے دلیل باتیں ہیں کہ ابتداء اسلام میں لوگ بغلوں میں بت لے کر نماز کو آیا کرتے تھے ۔ معاذاللہ یہ صحابہ رضی اللہ عنہ پر شرمناک حملہ ہے کسی مسلمان کے منہ سے یہ بات زیب نہیں دیتی۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نمازکی کیفیت کا بیان، ج2 ص122 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ